1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش: سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی گرفتاری کے احکامات

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے مرکزی اپوزیشن لیڈر خالدہ ضیاء کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ استغاثہ کے مطابق یہ وارنٹ حکومت کے خلاف گزشتہ برس کیے جانے والے مظاہروں میں ان کے کردار کی بنا پر جاری کیے گئے ہیں۔

بنگلہ دیشی عدالت کی جانب سے بدھ کے روز مجموعی طور پر ستائیس سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں ملکی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے ساتھ ساتھ ان کے جماعت کے کئی راکین بھی شامل ہیں۔ عدالت نے گرفتاریوں کے یہ احکامات گزشتہ برس کے مظاہروں کے دوران فائر بموں کا استعمال کرنے پر جاری کیے ہیں۔

استغاثہ کے وکیل شاہ عالم تعلق دار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ عدالت نے اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری کے یہ وارنٹ پولیس کی جانب سے ایک چارج شیٹ پیش کیے جانے کے بعد جاری کیے۔

Bus in Brand gesteckt in Rangpur Bangladesch 14.01.2015

گزشتہ برس کے اوائل میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا تھا، جن میں کم از کم ایک سو بیس افراد مارے گئے تھے

گزشتہ برس کے اوائل میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا تھا، جن میں کم از کم ایک سو بیس افراد مارے گئے تھے جب کہ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔ مظاہرین کا مقصد وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کو گرانا بتایا گیا تھا جبکہ اس احتجاج کے دوران درجنوں گاڑیوں پر حملے ہوئے تھے اور ٹائروں کو آگ لگاتے ہوئے سڑکیں بلاک کر دی گئی تھیں۔

بنگلہ دیشی سیاست گزشتہ کئی برسوں سے سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء اور موجودہ وزیراعظم شیخ حسینہ کے اردگرد گھوم رہی ہے اور ان دونوں کے درمیان دشمنی پیدا ہو چکی ہے۔ بنگلہ دیشں میں گزشتہ دو عشروں سے یہی دو خواتین زیادہ تر اقتدار کے ایوانوں میں موجود رہی ہیں۔

ان عدالتی احکامات کے بعد ستّر سالہ خالدہ ضیاء کا فی الحال کوئی بیان منظر عام پر نہیں آیا لیکن ان کی پارٹی اور کئی دیگر رہنماؤں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف سیاسی مقدمات ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واقعی پولیس نے خالدہ ضیاء کو گرفتار کر لیا تو پہلے ہی سے سیاسی انتشار کے شکار ملک بنگلہ دیش میں ایک مرتبہ پھر پرتشدد ہنگاموں اور احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کار پہلے ہی ایسے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں کہ سیاسی انتشار ملکی نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف لے کر جا رہا ہے۔