1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش رائفلز میں بغاوت، سینکڑوں ملزمان پر فرد جرم عائد

بنگلہ دیش میں 824 ایسے ملزمان پر باقاعدہ فرد جرم عائد کر دی گئی ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ برس ملکی بارڈر گارڈز کے ہیڈکوارٹرز میں مسلح بغاوت کے دوران درجنوں فوجی افسران کو ہلاک کر دیا تھا۔

default

سن 2009 میں یہ مسلح بغاوت سرحدی محافظین کے لئے تنخواہوں کے نظام میں مبینہ عدم مساوات اور ان کے کمانڈ سسٹم میں پائی جانے والی مبینہ خرابیوں کے خلاف بطور احتجاج شروع ہوئی تھی، جو بہت خونریز ثابت ہوئی تھی اور جس دوران بیسیوں افراد مارے گئے تھے۔

تب دارالحکومت ڈھاکہ میں بنگلہ دیش بارڈر گارڈز کے ہیڈکوارٹرز پر باغیوں کا قبضہ اور مسلح افراد کی طرف سے محاصرہ قریب دو دن تک جاری رہا تھا اور اس دوران کل 74 افراد مارے گئے تھے، جن میں سے 57 ملکی فوج کے اعلیٰ افسران تھے۔

One year after BDR mutiny

بنگلہ دیش میں مسلح بغاوت کے دوران ہلاک ہونے والے کچھ افراد کے لواحقین

ڈھاکہ میں ان ملزمان پر فرد جرم عائد کئے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے جرائم کی تحقیقات کرنے والے محکمے کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ ان ملزمان کو قانون کے مطابق ان کے جرم کی سزا دلوائی جائے گی کیونکہ وہ ایک ’’سوچے سمجھے قتل عام‘‘ کے مرتکب ہوئے تھے۔ اس عہدیدار نے بتایا کہ ڈھاکہ کی ایک عدالت نے ان ملزمان پر پولیس کی طرف سے عائد کئے جانے والے الزامات کو باقاعدہ طور پر تسلیم کر لیا ہے اور اب مسلح بغاوت کے مرتکب ان ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں ہے۔ ڈھاکہ میں ریاستی دفتر استغاثہ کے نمائندے مشرف حسین نے بتایا کہ ان ملزمان کو ان کے خلاف بغاوت سے متعلقہ الزامات ثابت ہو جانے پر موت کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔

بنگلہ دیشی سرحدی محافظین کے ہیڈکوارٹرز پر گزشتہ برس کے خونریز حملوں اور مسلح بغاوت کے بعد بہت سے ملزمان کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے فوری طور پر ہی گرفتار کر لیا تھا جبکہ اس سلسلے میں بعد ازاں جرائم کی تحقیقات کرنے والے ملکی محکمے کی طرف سے چھان بین کا عمل بھی کافی عرصے تک جاری رہا تھا۔

One year after BDR mutiny

ایک سال قبل، مسلح بغاوت میں ہلاک ہونے والوں کی قبروں پر پھول رکھے گئے۔

اس چھان بین کے دوران تفتیشی ماہرین نے کل قریب ساڑھے نو ہزار بارڈر گارڈز اور عام شہریوں سے پوچھ گچھ کی تھی، جس کے نتیجے میں 2300 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ اب جن 824 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، وہ انہیں مشتبہ افراد میں سے ہیں۔

قبل ازیں پیر کے روز ڈھاکہ میں ملکی حکومت نے ایک ایسے مسودہ قانون کی منظوری بھی دے دی، جس کے تحت نیم فوجی سرحدی فورس کے ارکان کو بغاوت کی صورت میں زیادہ سے زیادہ سزا کے طور پر سزائے موت بھی سنائی جا سکے گی۔

عوامی لیگ کی سربراہی میں کام کرنے والی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی مخلوط حکومت میں وزراء کی کونسل نے اس سلسلے میں جس مسودہ قانون کی منظوری دی، اسے بارڈر گارڈز بنگلہ دیش بل 2010 کا نام دیا گیا ہے۔ اس قانون کی حتمی منظوری کے بعد گزشتہ برس فروری میں ڈھاکہ میں بنگلہ دیش رائفلز کے ہیڈکوارٹرز میں ہونے والی بغاوت کے آٹھ سو سے زائد ملزمان کو ممکنہ طور پر سزائے موت سنائی جا سکے گی۔

حکومتی وزراء کی کونسل کی طرف سے اس قانونی بل کی منظوری کے بعد وزیر اعظم شیخ حسینہ کے دفتر کے ترجمان ابوالکلام آزاد نے بتایا کہ پارلیمانی منظوری کے بعد یہ نیا قانون اس پرانے قانون کی جگہ لے گا، جس کے تحت بنگلہ دیش رائفلز کے بغاوت کرنے والے کسی بھی اہلکار کو اب تک زیادہ سے زیادہ صرف سات سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ ڈھاکہ حکومت کا ارادہ ہے کہ اس نئے قانون کے تحت ملکی سرحدی حفاظتی فورس کا نام آئندہ بنگلہ دیش رائفلز سے بدل کر بارڈر گارڈز بنگلہ دیش رکھ دیا جائے گا۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عابد حسین

DW.COM