1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش: جاپانی شہری کا قتل، پانچ افراد کے لیے سزائے موت

بنگلہ دیش میں ایک جاپانی شہری کے قتل میں ملوث پانچ مسلم انتہا پسندوں کو سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا ہے۔ ان انتہا پسندوں نے 2015ء میں جاپانی کسان ہوشی کونیو کو گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

بنگلہ دیش کی ایک ضلعی عدالت کے جج نریش چندرہ سرکار کے مطابق کالعدم تنظیم جماعت المجاہدین کے ان پانچ افراد پر ہوشی کونیو کو قتل کرنے کا الزام ثابت ہو گیا۔ جج چندرہ سرکار کے مطابق، ’’ان افراد نے کونیو کو اس وجہ سے قتل کیا کہ یہ ملک کی ساکھ کو متاثر کرنا اور بنگلہ دیش کو غیر مستحکم کرنا چاہتے تھے۔ یہ منصوبہ بندی کے ساتھ کی جانے والی ایک واردات تھی۔‘‘ اس موقع پر عدالت میں چار ملزمان موجود تھے جبکہ ایک ملزم کو یہ سزا اس کی غیر حاضری میں سنائی گئی۔

چھیاسٹھ سالہ ہوشی بنگلہ دیش میں ایک ایسے زرعی منصوبے پر کام کر رہے تھے، جس کا تعلق مویشیوں کے لیے گھاس اگانے سے تھا۔ کونیو کو اکتوبر 2015ء میں رنگ پور نامی علاقے میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔ سزائے موت پانے والوں میں جماعت المجاہدین بنگلہ دیش ’جے ایم بی‘ کے رنگ پور کے علاقے کا سربراہ چوبیس سالہ مسعود رانا بھی شامل ہے۔ عدالت کے مطابق اسی کی چلائی گئی گولی سے ہوشی کی موت واقع ہوئی۔

وکیل استغاثہ عبدالمالک کے مطابق اس قتل کا ایک سہولت کار صدام حسین پہلے ہی پولیس مقابلے میں مارا جا چکا ہے۔ ہوشی کونیو کے احباب نے اس قتل کے بعد اس راز سے پردہ اٹھایا کہ ہوشی اسلام قبول کر چکا تھا تاہم حملہ آور اس بات سے آشنا نہیں تھے۔ ہوشی کے قتل سے کچھ روز قبل ڈھاکا میں ایک اطالوی امدادی کارکن کو بھی ہلاک کر دیا گیا تھا۔

گو کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ اور القاعدہ کی ایک مقامی شاخ نے بنگلہ دیش میں قتل کی متعدد وارداتوں کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم حکومت کا موقف ہے کہ ملک میں کوئی بھی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم موجود نہیں ہے اور ایسے زیادہ تر واقعات کے پیچھے جماعت المجاہدین بنگلہ دیش ہی کا ہاتھ ہے۔

ملتے جلتے مندرجات