1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش، اقلیتوں کی ہلاکتوں کے خلاف علما کا فتوی

بنگلہ دیش میں علما نے پیر کے روز ملک میں اقلیتوں اور سیکولر کارکنان کو قتل کرنے کےخلاف فتوی جاری کیا ہے۔ فتوے میں ایسی ہلاکتوں کو ناجائز اور اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا گیا ہے۔

Bangladesch Dhaka Polizisten führen Verdächtige ab

پولیس کے دعوے کے مطابق گرفتار شدہ افراد کی کل تعداد اب گیارہ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے

بنیادی طور پر مسلمان ملک بنگلہ دیش میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن میں پولیس نے دس ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گزشتہ تین برسوں سے بنگلہ دیش میں جاری شدت پسندی کی لہر میں 50 کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد، صوفی علماء اور سیکولر کارکنان شامل ہیں۔

بنگلہ دیش علماء کونسل کے سر براہ فرید الدین کے مطابق ایک لاکھ علماء کے دستخط شدہ اس فتوے کو 18 جون کو شائع کیا جائے گا۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے فرید الدین کا کہنا تھا، ’’اسلام غیر مسلموں اور سیکولر کارکنوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ ہم نے فتوے میں لکھا ہے کہ یہ قتل ناجائز ہیں اور انسانیت کے خلاف جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔‘‘

مذہبی رہنماؤں کی طرف سے یہ فتوی پولیس کے اس اعلان کے بعد جاری کیا گیا ہے جس میں اس نے ملک بھر میں عسکریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاون کے چوتھے روز تین ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا تھا۔ پولیس کے دعوے کے مطابق گرفتار شدہ افراد کی کل تعداد اب گیارہ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ بنگلہ دیشی حکومت کو تشدد کی اس لہر سے صحیح طور پر نہ نمٹنے کے خلاف سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ نے گزشتہ ہفتے ’ہر ایک قاتل‘ کو گرفتار کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ شیخ حسینہ واجد نے ملک کی ایک بڑی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور اس کی حلیف جماعت ’جماعت اسلامی ‘ پر قتل کی منصوبہ بندی کرنے اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ تاہم بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ کریک ڈاؤن سیاسی اختلاف رائے کو دبانے کے لیے شروع کیا ہے اور اب تک اس کے اکیس سو کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

Bangladesch Mord in Chittagong

بنگلہ دیش میں جاری شدت پسندی کی لہر میں پچاس کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں

دوسری جانب ڈپٹی انسپکٹر جنرل شاہد الرحمان کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والوں میں صرف 145 عسکریت پسند گروپوں کے ارکان تھے۔ جب کہ بیشتر افراد منشیات، اسلحہ اور دیگر جرائم میں ملوث ہیں۔ علماء کونسل کے سربراہ فرید الدین کے مطابق پولیس کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف ملک بھر میں جاری کریک ڈاؤن اپنی جگہ اہم ہے لیکن اقلیتوں کے قتل کے خلاف دیا جانے والا فتویٰ ہر اس مبینہ اسلام پسند گروپ کی بدنامی کا سبب بنے گا جو ایسی ہلاکتوں کا دفاع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’ فتوے سے واضح ہے کہ یہ ہلاکتیں جہاد کا حصہ نہیں بلکہ دہشت گردانہ کارروائیاں ہیں۔‘‘

گزشتہ ہفتے ایک بزرگ ہندو پجاری کی لاش چاول کے ایک کھیت میں تقریباﹰ سربریدہ حالت میں ملی تھی جبکہ ہندو خانقاہ کے ایک کارکن اور ایک عیسائی پنساری کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔

ایسی کئی وارداتوں کی ذمہ داری شام اور عراق میں سرگرم عسکریت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ قبول کر چکی ہے تاہم بنگلہ دیش کی حکومت نے بنگلہ دیش میں ’اسلامک سٹیٹ‘ کے وجود سے انکار کیا ہے۔

DW.COM