1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش: احمدیہ مسجد پر حملہ، خود کُش حملہ آور ہلاک

بنگلہ دیش کے ذیلی ضلع باگمارا میں جمعے کو احمدیوں کی ایک مسجد پر ہونے والے بم دھماکے میں ایک مشتبہ خود کُش بمبار کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

پولیس کے مطابق احمدیہ جماعت کی یہ مسجد بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ سے 250 کلو میٹر کے فاصلے پر قائم ذیلی ضلع باگمارا میں قائم ہے۔ مسجد اُس وقت نمازیوں سے بھری ہوئی تھی جب یہ بم دھماکہ ہوا۔ اس علاقے کے مقامی پولیس کے چیف مطیع الرحمان نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،’’اس بم دھماکے میں ایک شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ تین دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ لگتا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص دھماکہ خیز مواد سے لیس تھا اور وہ ایک مشتبہ خود کُش بم حملہ آور تھا‘‘۔

احمد تبشیر چودھری احمدیہ جماعت بنگلہ دیش کے ایک ترجمان ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’جمعے کی نماز کے وقت دو نامعلوم افراد وہاں پہنچے تھے۔ اُس وقت وہاں 100 کے قریب نمازی موجود تھے جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔‘‘

Bangladesch Dhaka Schiitische Moschee

تومبر میں اس شیعہ مسجد پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا

اے ایف پی سے بات چیت کرتے ہوئے چودھری نے کہا،’’ بم دھماکہ عین نماز کے دوران ہوا اور اُن دو نامعلوم افراد میں سے ایک موقع پر ہی ہلاک ہو گیا‘‘۔ احمد تبشیر کا مزید کہنا تھا کہ دیگر چار احمدی نمازی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔ کسی بھی گروپ نے تاحال اس دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم حالیہ مہینوں میں مقامی عسکریت پسند گروپ جماعت المجاہدین بنگلہ دیش JMB اور اسلامک اسٹیٹ گروپ کی طرف سے متعدد دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی جاتی رہی ہے۔ خاص طور سے شمالی بنگلہ دیش میں ایک بہت بڑے شیعہ بُزرگ کے مزار اور ایک شیعہ نمازیوں کی مسجد پر ہونے والے حملے میں بھی یہی گروپ ملوث تھے اور انہوں نے اس کا اقرار بھی کیا تھا۔ ایسے ہی ایک حملے میں ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی دو مسیحی پادری بال بال بچے تھے۔

Bombenanschläge in Bangladesh

بنگلہ دیش میں بم دھماکے روزمرہ کا معمول بن چُکے ہیں

سال رواں میں بنگلہ دیش میں سیکولر بلاگرز پر متعدد دہشت گردانہ حملے کیے گئے جن کے نتیجے میں چار معروف بنگلہ دیشی بلاگرز جبکہ ایک ناشرکی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ اس کے علاوہ دو غیر ملکیوں کو جن میں سے ایک جاپانی فارمر تھا جبکہ دوسرا اطالوی ایڈ ورکر، کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ دو پولیس اہلکار بھی ان انتہا پسند گروپوں کے تشدد کا نشانہ بن کر ہلاک ہو چُکے ہیں اور بنگلہ دیش میں بہت سے مسحیحی مبلغوں کو دھمکیاں مل چُکی ہیں۔

گزشتہ ہفتے بندرگاہی شہر چٹا گانگ میں نیوی بیس کے اندر قائم ایک مسجد میں دو بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد زخمی ہوئے تھے۔

عسکریت پسند گروپ جماعت المجاہدین بنگلہ دیش JMB ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کر چُکی ہے تاہم وزیراعظم شیخ حسینہ کی سرکار مرکزی اپوزیشن پارٹی اور اُس کے اسلامی اتحادیوں پر ملک میں طوائف الملوکی پھیلانے کی کوششوں کا الزام عائد کر رہی ہے۔

DW.COM