1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بنگلہ دیشی کیمپ میں چار روہنگیا ہاتھیوں کے پاؤں تلے کچلے گئے

جنوبی بنگلہ دیش کے ایک نیم جنگلاتی علاقے میں اپنی ایک جھونپڑی بنانے میں مصروف چار روہنگیا مہاجرین جنگلی ہاتھیوں کے پاؤں تلے کچلے گئے۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے ان چار روہنگیا مہاجرین میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی ہفتہ چودہ اکتوبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ واقعہ بنگلہ دیش کے ضلع کوکس بازار میں بالُوکھلی کیمپ میں آج ہی ہفتے کے روز پیش آیا۔ بنگلہ دیش کے اس ضلع کی سرحد ہمسایہ ملک میانمار کی ریاست راکھین سے ملتی ہے، جہاں سے اگست کے اواخر سے اب تک خونریزی سے بچنے کی کوشش میں نصف ملین سے زائد روہنگیا مسلم اقلیتی مہاجرین اپنی جانیں بچاتے ہوئے بنگلہ دیش میں پناہ گزین ہو چکے ہیں۔

روہنگیا لڑکی اور بنگلہ دیشی مرد کی محبت کی کہانی، جوڑا روپوش

روہنگيا مسلمان ميانمار واپسی کے حوالے سے تحفظات کا شکار

روہنگيا مسلمانوں کے ليے ايک در کُھل گيا

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ کوکس بازار کے اسی بالُوکھلی مہاجر کیمپ میں لاکھوں روہنگیا مہاجرین عارضی خیموں اور رہائش گاہوں میں مقیم ہیں اور یہیں پر چند مہاجرین اپنے لیے ایک جھونپڑی تیار کر رہے تھے کہ ان میں سے چار وہاں سے گزرتے ہوئے بپھر جانے والے جنگلی ہاتھیوں کے پاؤں تلے کچلے جانے سے ہلاک ہو گئے۔

کوکس بازار کے نائب پولیس سربراہ افروزالحق توتل نے صحافیوں کو بتایا، ’’ان جنگلی ہاتھیوں کی تعداد سات یا آٹھ تھی۔ جو چار روہنگیا مہاجرین ان ہاتھیوں کے پیروں تلے کچلے جانے سے ہلاک ہو گئے، ان میں ایک عورت اور تین بچے شامل ہیں۔‘‘

Bangladesch Rohingya Flüchtlinge im Camp Cox's Bazar

بنگلہ دیش میں بہت سے روہنگیا مہاجرین کے پاس سر چھپانے کی کوئی جگہ نہیں

ضلعی پولیس کے نائب سربراہ کے مطابق اس واقعے میں دو روہنگیا مہاجرین زخمی بھی ہوئے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد وہ روہنگیا مہاجرین تھے جو خراب موسمی حالات میں وہاں اپنے لیے ایک عارضی جھونپڑی تیار کر رہے تھے۔ جس جگہ پر یہ جھونپڑی بنائی جا رہی تھی، وہ مقامی جنگل کا ایک ایسا حصہ ہے، جہاں جنگلی ہاتھی اکثر اپنے لیے خوراک یا آرام کی تلاش میں آتے ہیں۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ بنگلہ دیش میں یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے کہ وہاں روہنگیا مہاجرین جنگلی ہاتھیوں کے پاؤں تلے کچلے جانے سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس سے کچھ عرصہ قبل بھی اسی علاقے میں جنگلی ہاتھیوں نے رات کے وقت سوئے ہوئے روہنگیا مہاجرین کے ایک گروپ پر حملہ کر دیا تھا۔ تب اس واقعے میں ایک بزرگ روہنگیا مہاجر اور ایک بچہ ہلاک ہو گئے تھے۔

بنگلہ دیشی حکومت اور اقوام متحدہ کے مختلف ذیلی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق میانمار کی ریاست راکھین میں اگست کی 25 تاریخ سے خونریزی اور قتل و غارت کی جو نئی لہر شروع ہوئی تھی،  اس کے نتیجے میں اب تک سرحد پار کر کے بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے روہنگیا مہاجرین کی مجموعی تعداد قریب پانچ لاکھ چھتیس ہزار ہو چکی ہے۔

DW.COM