1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیشی کابینہ کے دو وزراء کو توہین عدالت کے جرم میں سزا

بنگلہ دیشی سپریم کورٹ نے ملکی چیف جسٹس پر تنقید کے باعث وزیر اعظم شیخ حسینہ کی کابینہ کے دو اہم وزراء کو توہین عدالت کے جرم میں باقاعدہ سزا سنا دی ہے۔ یوں ان دونوں سیاستدانوں کا وزارتی مستقبل اب خطرے میں پڑ گیا ہے۔

ملکی دارالحکومت ڈھاکا سے اتوار ستائیس مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق بنگلہ دیشی سپریم کورٹ نے جن وزراء کو سزا سنائی ہے، ان میں سے ایک وزیر خوراک قمرالاسلام ہیں اور دوسرے بنگلہ دیش کی ریاستی آزادی سے متعلقہ امور کے وزیر اے کے ایم مزمل حق ہیں۔

ان دونوں وزراء نے اسی مہینے کے دوران ملکی چیف جسٹس ایس کے سنہا کے بارے میں عوامی سطح پر تنقیدی بیانات دیے تھے۔ ان کو فی کس 50 ہزار ٹکہ یا 625 امریکی ڈالر کے برابر جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں ان میں سے ہر ایک کو سات سات دن قید کی سزا کاٹنا ہو گی۔

اے ایف پی نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ قمرالاسلام اور مزمل حق نے اپنے بیانات میں مطالبہ کیا تھا کہ چیف جسٹس سنہا کو ایک ایسی عدالتی اپیل کی سماعت سے علیحدہ ہو جانا چاہیے، جو ملک کے ایک ایسے سرکردہ اسلام پسند سیاسی رہنما نے دائر کی تھی، جسے عدالت نے جنگی جرائم کے جرم میں سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔

بنگالی نیوز ویب سائٹ ’پروتھوم آلو‘ Prothom Alo نے آج اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ ان وزراء کے خلاف اپنا فیصلہ سنائے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ دونوں وزراء نے اس بارے میں جو بنایات دیے تھے، وہ غیر جانبدار عدلیہ کی کارکردگی میں مداخلت کے مترادف تھے۔

اے ایف پی کے مطابق قمرالاسلام کے وکیل عبدالباسط ماجمدار نے ڈھاکا میں صحافیوں کو بتایا، ’’انہوں (دونوں وزراء) نے غیر مشروط طور پر معافی مانگی تھی لیکن عدالت نے ان کی معذرت کو مسترد کر دیا اور ان میں سے ہر ایک کو پچاس پچاس ہزار ٹکہ جرمانے کا حکم سنایا۔‘‘

اس فیصلے سے قبل عدالت نے دونوں ملزمان سے کہا تھا کہ وہ اپنے ان ’انتہائی توہین آمیز تبصروں‘ کی وضاحت کریں، جن کی وجہ سے ’سپریم کورٹ کی عزت اور حرمت اور چیف جسٹس کے عہدے کا وقار متاثر‘ ہوئے ہیں۔

Bangladesch Sheikh Hasina Premierministerin

بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ

بنگلہ دیش کو مسلم سے لادین ریاست بنانے کے مطالبے کی مخالفت

پاکستان نے بنگلہ دیشی سفارت کار کو بے دخل کر دیا

اسی دوران بنگلہ دیشی اٹارنی جنرل محبوب عالم نے کہا ہے کہ اب وزیر اعظم شیخ حسینہ کی قیادت میں ملکی کابینہ کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا ان دونوں وزیروں کو ان کے سزا یافتہ ہونے کے بعد بھی حکومت کا حصہ رہنا چاہیے۔

ان دو وزراء نے جس عدالتی اپیل کے حوالے سے چیف جسٹس کے بارے میں ریمارکس دیے تھے، اس اپیل کی سماعت کے بعد عدالت نے حال ہی میں اپنے فیصلے میں متعلقہ اسلام پسند رہنما کو سنائی گئی موت کی سزا برقرار رکھی تھی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ملکی کابینہ کے ارکان قمرالاسلام اور مزمل حق نے چیف جسٹس کے بارے میں جو بیانات دیے تھے، ان کا مقصد سپریم کورٹ کی طرف سے سرکردہ اسلام پسند رہنما کو سنائی گئی سزائے موت کے خلاف اسی مجرم کی دائر کردہ اپیل کی سماعت سے قبل عدالت پر دباؤ ڈالنا تھا۔