1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیشی مسلم شدت پسندوں کی پناہ گاہ میں ہلاکت خیز دھماکا

بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکا کے نواح میں سکیورٹی دستوں کی طرف گزشتہ چار روز کے دوران شدت پسندوں کے کسی ٹھکانے پر مارے جانے والے اپنی نوعیت کے تیسرے چھاپے کے دوران ایک بم دھماکے میں کم از کم دو عسکریت پسند مارے گئے۔

ڈھاکا سے پیر اٹھائیس دسمبر کے روز ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق فوری کارروائی کرنے والے RAB دستوں کی آج کی جانے والی کارروائی کے دوران شدت پسند مسلمانوں کی ایک ممنوعہ عسکریت پسند تنظیم کے یہ دو ارکان اس وقت مارے گئے، جب ان کی پناہ گاہ کے اندر ہی ایک ایسا دھماکا ہوا، جس میں حکام کے مطابق وہاں کارروائی کرنے والے دستوں کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔

بنگلہ دیشی پولیس کے ریپِڈ ایکشن بٹالین نامی ایلیٹ یونٹ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ یہ چھاپہ ڈھاکا سے قریب 40 کلومیٹر شمال کی طرف غازی پور کے علاقے میں آج پیر کو طلوع آفتاب سے قبل ایک ایسے گھر پر مارا گیا، جہاں جمعیت المجاہدین بنگہ دیش نامی ممنوعہ عسکریت پسند گروپ کے جنگجو پناہ لیے ہوئے تھے۔

پولیس کے مطابق اس کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں نے سکیورٹی دستوں پر دیسی ساخت کے بم بھی پھینکے اور اسی دوران اس گھر کے اندر ایک طاقت ور دھماکا بھی ہوا۔ ’’بعد ازاں حکام کو اس گھر سے دو مشتبہ شدت پسندوں کی لاشیں ملیں۔‘‘

آر اے بی کے ترجمان میجر رومان محمود نے اے ایف پی کو بتایا، ’’چھاپے کے دوران جب شدت پسندوں نے سکیورٹی دستوں پر دیسی ساخت کے بم پھینکے تو ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا۔ اس پر پولیس کا، جس نے اس مکان کو پہلے ہی گھیرے میں لے رکھا تھا، شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔‘‘

بتایا گیا ہے کہ جمعیت المجاہدین نامی ممنوعہ عسکریت پسند تنظیم کے ان شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا کہ گھر کے اندر ایک زور دار دھماکا ہوا۔ ترجمان نے بتایا، ’’بعد میں جب پولیس اہلکار عمارت میں داخل ہوئے تو انہیں وہاں سے دو مشتبہ شدت پسندوں کی لاشیں ملیں۔‘‘ حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس چھاپے کے دوران اس مکان سے دیسی ساخت کے متعدد بم، ہینڈ گرینیڈ، چند آتشیں ہتھیار اور جمعیت المجاہدین (جے ایم بی) کے متعدد پراپیگنڈا پمفلٹ بھی قبضے میں لے لیے گئے۔

Dhaka Urteil gegen Mitglieder der Gruppe Harkat-ul Jihad Islami

بنگلہ دیش میں کئی اسلام پسندوں کو طویل مدت کی قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں

اس سے قبل بنگلہ دیشی پولیس نے گزشتہ جمعرات کے روز بھی مسلح اسلام پسندوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ڈھاکا کے مضافاتی علاقے میرپور میں ایک کئی منزلہ عمارت پر چھاپہ مارا تھا۔ یہ کارروائی 15 گھنٹے تک جاری رہی تھی، اور اس دوران جے ایم بی کے سات مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کرنے کے علاوہ ان کے قبضے سے کئی دستی بم اور خود کش بم حملوں میں استعمال ہونے والی جیکٹیں بھی برآمد کر لی گئی تھیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات