1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بنگلہ دیشی عوام کی بڑی تعداد زہریلے پانی کا شکار

ایک تازہ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں کی کل آبادی میں سے تقریبا 77 ملین افراد میں زہریلے پانی کے استعمال کی وجہ سے آرسینک لیول خطرناک حد تک زیادہ دیکھا گیا ہے۔

default

یہ تحقیقی رپورٹ دارالحکومت ڈھاکہ کے ایک ضلع کے افراد کے تجزیے پر مبنی ہے۔ محققین کے مطابق یہ تحقیقی رپورٹ گزشتہ دس برسوں میں ڈھاکہ کے اس ضلع میں تقریبا بارہ ہزار افراد کے تجزیے اور طبی اعداد وشمار کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ضلع میں تقریبا 20 فیصد افراد کی طبعی موت کے درپردہ، ان افراد میں اس آرسینک نامی زہریلے مادے کی زیادہ مقدار کی موجودگی تھی۔

Hilsa Fisch in Indien und Pakistan

بنگلہ دیش میں عوام کی اکثریت پینے کا پانی نکلوں سے حاصل کرتی ہے

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے ، ’کرہء ارض پر اس سے قبل کسی خطے یا علاقے میں اتنے بڑے پیمانے پر کسی آبادی کو اس طرح زہریلے مادے سے متاثر ہوتے نہیں دیکھا گیا ہے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں زہریلے پانی کے ذریعے انسانی صحت کے متاثر ہونے کا سلسلہ سن 70 کی دہائی میں بڑے پیمانے پر زمین سے پانی حاصل کرنے کے لئے نلکوں کے استعمال سے شروع ہوا۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ آرسینک عنصر اگر لمبے عرصے تک انسانی جسم میں موجود رہے، تو اس سے مثانے، گردوں، جلد اور پھیپھڑوں کا سرطان لاحق ہو سکتا ہے۔

اس تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں 35 سے 77 ملین افراد ممکنہ طور پر 70 کی دہائی میں پانی کے حصول کے لئے نلکوں کے استعمال کی گمراہ کن ترویج کا شکار ہوئے۔

Landwirtschaft in einem Dorf in Bangladesch

بنگلہ دیش میں صاف پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ ہے

بنگلہ دیش کی زمین کی سطح پر قدرتی طور پر آرسینک کی مقدار زیادہ ہے اور وہاں پینے کا پانی حاصل کرنے کے لئے کم گہرے کنویں کھودے گئے تھے جبکہ نلکے اور ٹیوب ویل لگائے گئے تھے۔ سائنسدانوں نے مستقبل میں اس پانی کے صحت پر اثرات کے حوالے سے خطرناک نتائج کی بھی پیشن گوئی کی ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ زمین سے پانی کا حصول خطرہ نہیں تھا بلکہ وہ طریقہ کار انتہائی غلط تھا، جس کے تحت یہ ٹیوب ویل اور نلکے لگائے گئے۔

اس رپورٹ کی تیاری میں ڈھاکہ کے ضلح آرائی ہزر میں 18 برس سے 75 برس تک کی عمروں کے گیارہ ہزار سات سو چھیالیس افراد کے خون اور پیشاب کے نمونے دو برسوں تک وقفے وقفے سے حاصل کئے جاتے رہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM