1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بنگلہ دیشی حکومت کا روہنگیا مہاجرین کی نس بندی کا منصوبہ

بنگلہ دیش کی حکومت روہنگیا مہاجرین کی رضاکارانہ نس بندی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ایک ملین روہنگیا پناہ گزین کیمپوں میں جگہ اور دیگر سہولیات کے لیے تگ و دو میں ہیں جبکہ برتھ کنٹرول کی حکومتی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

بنگلہ دیش کے پڑوسی ملک میانمار میں رواں برس اگست سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے فوجی کریک ڈاؤن کے بعد چھ لاکھ کے قریب روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔

میانمار کی ریاست راکھین سے آنے والے مہاجرین کی تازہ لہر میں مزید ہزاروں پناہ گزینوں نے بنگلہ دیش کا رخ کیا ہے۔

ان پناہ گزینوں کی روز بروز بڑھتی تعداد کے باعث مہاجر کیمپوں میں رہائش، کھانے پینے اور بیت الخلاء کی سہولیات ناکافی ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اگر کیمپوں میں خاندانی منصوبہ بندی پر عمل نہیں کرایا گیا تو صورت حال مزید خراب ہو گی۔

بنگلہ دیش کے ضلع کوکس بازار میں جہاں ان پناہ گزینوں کو کیمپوں میں رکھا گیا ہے، فیملی پلاننگ کے سربراہ پنتو کانتی بھٹاچرجی کا کہنا ہے کہ ان روہنگیا مہاجرین کو خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے آگاہی بہت کم ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بھٹاچر جی کا کہنا تھا کہ کیمپوں میں بڑے خاندان کا ہونا ایک معمول کی بات ہے۔ کوکس بازار میں فیملی پلاننگ کے سربراہ کے مطابق بعض والدین کے انیس بچے بھی ہیں اور متعدد روہنگیا مہاجرین ایک سے زائد بیویاں رکھتے ہیں۔

فیملی پلاننگ کے ضلعی حکام نے مانعیتِ حمل کا ایک پروگرام شروع کیا ہے تاہم اُن کا کہنا ہے کہ اب تک وہ کنڈومز کے محض 549 پیکٹ ہی تقسیم کر سکے ہیں جنہیں یہ مہاجرین استعمال کرنے میں غیر آمادہ نظر آتے ہیں۔

 ان مقامی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت سے روہنگیا مردوں کی نس بندی کرانے اور خواتین کے لیے بھی اسی نوعیت کی منصوبہ بندی کی درخواست کی ہے۔

بہت سے پناہ گزینوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ اُن کے خیال میں خاندان بڑا رکھنے سے کیمپوں میں اُن کی بقا قائم رکھنے میں مدد ملے گی، جہاں کھانے پینے کی اشیا تک رسائی روزانہ کی جنگ ہے اور اکثر بچوں کو ہی سامان خورد و نوش لانے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔

دیگر کئی روہنگیا پناہ گزینوں کا ماننا ہے کہ حمل روکنا اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے۔ فرحانہ سلطانہ مہاجر کیمپوں میں فیملی پلاننگ کے لیے کام کرنے والی ایک رضا کار ہیں۔ سلطانہ کا کہنا ہے کہ کیمپوں میں بہت سی خواتین فیملی پلاننگ کو گناہ سمجھتی ہے۔

بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ کیمپوں میں مہاجرین کی آمد کے بعد سے چھ سو بچوں کی پیدائش ہو چکی ہے جبکہ بیس ہزار مہاجر خواتین حاملہ ہیں۔  

DW.COM