1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ ديش: پوليس کی کارروائی ميں پانچ مشتبہ انتہا پسند ہلاک

بنگلہ ديش ميں انتہا پسندوں کی ايک پناہ گاہ پر سکیورٹی اہلکاروں کی ایک کارروائی کے دوران ايک ہی خاندان کے پانچ ارکان اور آگ بجھانے والے عملے کا ايک رکن ہلاک ہو گئے ہیں۔

پوليس اہلکار سُمِت چوہدری نے خبر رساں ادارے اے ايف پی کو بتايا  ہے کہ پولیس کی کارروائی کے نتیجے میں ایک خاندان کے پانچ ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں ميں اس کنبے کے والد، والدہ، دو بيٹے اور ايک بيٹی شامل تھے۔ چوہدری کے بقول جب پوليس اہلکار ان مشتگہ جنگجوؤں کے ٹھکانے پر پہنچے تو  وہاں موجود افراد نے  اچانک دو دستی بم پھينکے اور ايک فرد نے آگ بجھانے والے عملے کے ايک رکن پر لوہے کی ايک سلاخ سے حملہ کر ديا۔ اس کے بعد پوليس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پانچوں کو ہلاک کر ديا۔ اس کارروائی کے دوران ايک دو ماہ کے اور ايک سات سالہ بچے کو بچا بھی ليا گيا اور يہ بھی کہا جا رہا ہے کہ متعلقہ مکان ميں اب بھی ايک عورت چھپی ہوئی ہے۔

سُمِت چوہدری نے بتايا کہ پوليس نے کارروائی يہ اطلاع ملنے کے بعد کی کہ ملک کے جنوب مغربی حصے ميں راج شاہی ضلع کے حباشپور نامی ايک گاؤں ميں ايک مکان کے اندر اسلام پسند کالعدم تنظيم جماعت المجاہدين بنگلہ ديش کے چند مشتبہ ارکان نے پناہ لے رکھی ہے۔ اس اطلاع پر پوليس نے جمعرات کی صبح کارروائی کی۔

ڈھاکا حکومت ملک ميں مذہبی اقليتوں اور غير ملکيوں کے خلاف متعدد خونريز حملوں کی ذمہ داری جماعت المجاہدين بنگلہ ديش پر عائد کرتی ہے۔ ايسا ہی ايک حملہ گزشتہ سال دارالحکومت کے ايک کيفے پر کيا گيا تھا، جس ميں بائيس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے ميں ہلاک ہونے والے زيادہ تر افراد غير ملکی تھے۔

سياسی مبصرين کا کہنا ہے کہ بنگلہ ديش ميں سياسی عدم استحکام کے سبب حکومت کے مخالفين انتہا پسندی کی طرف مائل ہو رہے ہيں، جس کی وجہ سے اس قدامت پسند معاشرے کو مزيد خطرات لاحق ہو سکتے ہيں۔ پوليس نے اس مسئلے سے نمٹنے کے ليے اپنی کارروائياں جاری رکھی ہوئی ہيں اور ڈھاکا کے کيفے پر ہونے والے حملے کے بعد سے اب تک  مشتبہ شدت پسندوں کی پناہ گاہوں پر مختلف کارروائيوں کے دوران ستر سے زائد مشتبہ دہشت گرد مارے جا چکے ہيں۔