1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلور میں کرفیو، ’پرسکون ہو جائیں‘ مودی کی اپیل

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بنگلور کے عوام سے پُر سکون رہنے کی اپیل کی ہے۔ بھارت کے ٹیکنیکل حب بنگلور میں تشدد پھوٹنے کے بعد کرفیو نافذ ہے۔ تشدد کا یہ سلسلہ ہمسایہ ریاست کے ساتھ پانی کی تقسیم کے معاملے پر شروع ہوا۔

پیر 12 ستمبر کو مظاہرین کی طرف سے بسوں اور کاروں کو آگ لگائے جانے اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے بعد بھارت کے اس جنوبی شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 15 ہزار کے قریب پولیس اہلکار شہر کی گلیوں اور سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں۔ شہر کے شِمالی حصے کے ایک ڈپٹی پولیس انسپکٹر ٹی آر سُریش نے اے ایف پی کو بتایا، ’’گزشتہ شب مظاہرین نے پولیس کی ایک گاڑی جلانے کی کوشش کی اور اس دوران پولیس کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔‘‘

بھارتی وزیراعظم نے بنگلور کی صورتحال کو ’تکلیف دہ‘ قرار دیتے ہوئے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ پُرسکون ہو جائیں۔ بنگلور، بھارت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق کمپنیوں کا گڑھ ہے اور مائیکروسافٹ اور ڈیل سمیت دنیا کی کئی بین الاقوامی کمپنیوں کے دفاتر اسی شہر میں موجود ہیں۔

مودی کی طرف سے اس معاملے پر کئی ٹوئیٹس جاری کی گئیں جن میں ان کا کہنا تھا، ’’یہ تنازعہ صرف قانونی دائرے میں رہتے ہوئے حل کیا جا سکتا ہے۔ قانون توڑنا قابل عمل متبادل نہیں ہے۔‘‘ ایک اور ٹوئیٹ میں بھارتی وزیراعظم کا کہنا تھا، ’’تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کا جو سلسلہ ہم نے پچھلے دو دنوں کے دوران دیکھا اس سے صرف غریب کا نقصان ہو رہا ہے اور قوم کے اثاثوں کا۔‘‘

بھارت ان دنوں پانی کی شدید کمی کا شکار ہے جس کی وجہ سے بھارتی ریاستوں کے درمیان بھی تناؤ بڑھا رہا ہے

بھارت ان دنوں پانی کی شدید کمی کا شکار ہے جس کی وجہ سے بھارتی ریاستوں کے درمیان بھی تناؤ بڑھا رہا ہے

مظاہروں کا سلسلہ ریاست کرناٹکہ کی سپریم کورٹ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک فیصلے کے بعد شروع ہوا۔ بنگلور اس ریاست کا دارالحکومت ہے۔ اس فیصلے کے مطابق بنگلور حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک دریا سے ہمسایہ ریاست تامل ناڈو کے لیے رواں ماہ کے آخر تک پانی چھوڑے تاکہ وہاں پانی کی شدید قلت پر قابو پایا جا سکے۔

بھارت ان دنوں پانی کی شدید کمی کا شکار ہے جس کی وجہ سے بھارتی ریاستوں کے درمیان بھی تناؤ بڑھا رہا ہے اور دریائے کاوری کے پانی کے حوالے سے ریاستوں میں تنازعہ ہے۔

بنگلور پولیس کے کمشنر این ایس میگھارکھ کے مطابق مسلمانوں کے مذہبی تہوار عید کے موقع پر ’’بنگلور شہر کے 15 مختلف علاقوں میں آئندہ تین روز کے لیے کرفیو نافذ ہے۔‘‘

پولیس کی طرف سے کارروائیوں میں قریب 200 مظاہریں کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر فساد پھیلانے، تشدد اور دیگر الزامات عائد ہیں۔ اسی تشدد کے باعث دکانیں، دفاتر اور اسکولوں کو بند کر دیا گیا۔ آج منگل 13 ستمبر کو بنگلور شہر میں نسبتاﹰ سکون رہا۔