1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

بنڈس لیگا: ڈورٹمنڈ کی سبقت برقرار

جرمن قومی فٹ چیمپیئن شپ لیگ بنڈس میں بورسیا ڈورٹمنڈ کی سبقت برقرار ہے۔ اس چیمپیئن شپ کا 13واں میچ ڈے اتوار کو اختتام کو پہنچ گیا ہے، جس کے آخری مقابلوں میں سے ایک میں کولون نے اشٹٹ گارٹ کو ایک صفر سے ہرایا۔

default

بنڈس لیگا کے تیرھویں میچ ڈے کے آخری روز اتوار کو سینٹ پاؤلی کا مقابلہ وولفس برگ سے ہوا، جو بے نتیجہ رہا۔ دونوں ٹیمیں صرف ایک ایک گول ہی کر سکیں۔ اسی روز کولون کا مقابلہ اششٹ گارٹ سے تھا، جو کولون نے لوکاس پوڈولسکی کی ایک پینلٹی کی بدولت ایک صفر سے جیتا۔

قبل ازیں ہفتہ کو بنڈس لیگا کی اوّل نمبر ٹیم بورسیا ڈورٹمنڈ کو مسلسل ساتویں فتح حاصل ہوئی، جس سے اس نے پوائنٹس ٹیبل پر اپنی برتری قائم رکھی۔ اس میچ ڈے میں ڈورٹمنڈ کا مقابلہ فرائی برگ سے تھا، جو اس نے دو ایک سے جیتا۔

اس میچ ڈے کے دیگر مقابلوں میں شالکے نے ویردیر بریمن کو ہرایا، جو کوئی گول نہ کرسکی جبکہ شالکے نے چار گول کئے۔ مائنز نے مؤنشن گلاڈباخ کو دو کے مقابلے میں تین گول سے شکست دی۔ ہین اوور نے بھی ہیمبرگ کو تین دو سے ہی مات دی جبکہ بائرن میونخ اور بائر لیورکوزین کا میچ ایک ایک گول سے بے نتیجہ رہا۔

اس میچ ڈے کے اختتام پر بنڈس لیگا کے پوائنٹس ٹیبل پر بورسیا ڈورٹمنڈ 34 پوائنٹس کے ساتھ نمبر وَن ٹیم ہے۔ اس نے اب تک 13میچ کھیلے ہیں، جن میں سے اس نے گیارہ جیتے ہیں، ایک بے نتیجہ رہا جبکہ ایک میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

Flash-Galerie Bundesliga 13. Spieltag 2010

کولون اور اشٹٹ گارٹ کے کھلاڑی، جیت کی دَوڑ

دوسرے نمبر پر 27 پوائنٹس کے ساتھ مائنز ہے، جس نے اب تک نو میچ جیتے ہیں اور چار میں شکست کھائی ہے۔ تیسرا نمبر بائرلیورکوزین کا ہے جبکہ اس کے پوائنٹس 25 ہیں۔ اس ٹیم نے سات میچ جیتے ہیں، چار میں اسے شکست ہوئی ہے، جبکہ دو میچ بے نتیجہ رہے ہیں۔

چوتھے نمبر کی ٹیم 22 پوائنٹس کے ساتھ ہین اوور ہے، اس ٹیم نے بھی سات میچ جیتے ہیں جبیکہ اسے پانچ میں شکست ہو چکی ہے اور ایک برابر رہا ہے۔ بنڈس لیگا کے پوائنٹس ٹیبل پر پانچواں نمبر 21 پوائنٹس کے ساتھ ہوفن ہائم کے پاس ہے، جس نے اب تک چھ میچ جیتے، چار ہارے اور دو بے نتیجہ کھیلے ہیں۔ چھٹا نمبر فرائی برگ کے پاس ہے، ساتویں نمبر پر فرینکفرٹ، آٹھویں پر بائرن میونخ، نویں پر ہیمبرگ اور دسویں پر نیوریمبرگ ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس