1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنوں میں یکے بعد دیگرے دو بم دھماکے، 15 ہلاک

پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبے کے علاقے بنوں میں جمعرات کو پولیس کمپاوٴنڈ پر دو بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک اور قصبے کے پولیس سربراہ سمیت بیس زخمی ہوگئے۔

default

اسی ماہ کے آغاز پر کراچی میں دو خودکش حملے ہوئے

Selbstmordanschlag in Peshawar, Pakistan

گزشتہ ماہ اکتوبر میں پشاور کی ایک مسجد کے اندر دھماکہ ہوا تھا

اطلاعات کے مطابق بنوں میں پولیس کمپاوٴنڈ پر جمعرات کو ہونے والے دو بم دھماکے یکے بعد دیگرے ہوئے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ حملے دو خود کش بمباروں نے کئے۔ بنوں کے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ زخمیوں میں کم از کم نو پولیس اہلکار شامل ہیں۔ بنوں کے سینٹرل ہسپتال میں ایک ڈاکٹر نے بم دھماکوں میں پندرہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی اور کہا کہ بیس زخمیوں کا علاج جاری ہے۔

یہ حملے ایک ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب پاکستانی حکام یہ سمجھ رہے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ہلاک ہوچکے ہیں۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان اور وادیء سوات میں مختلف آپریشنز میں ایک ہزار سے زائد طالبان عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ اس دعوے کے باوجود طالبان عسکریت پسند تسلسل کے ساتھ پاکستان کے مختلف علاقوں میں اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

Anschlag in Kohat, Pakistan

گزشتہ ماہ ستمبر میں کوہاٹ میں ایک خودکش حملے میں پچیس افراد مارے گئے تھے

ابھی کل بدھ کو ہی پاکستان کی خیبر ایجنسی میں ایک خودکش بمبار کے حملے میں گیارہ پولیس اہلکاروں سمیت کل انیس افراد مارے گئے تھے۔ ہلاک شدگان میں سات شہری بھی شامل بتائے گئے۔ بعض تجزیہ کار ملک کے شمال مغربی صوبے میں دو روز کے اندر دو بڑے حملوں کو طالبان کمانڈر حکیم اللہ محسود کی ممکنہ ہلاکت کے بعد انتقامی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔ امریکہ اور پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ حکیم اللہ محسود گزشتہ ماہ ایک ڈرون حملے میں مارے گئے تاہم تحریک طالبان پاکستان اپنے سربراہ کی ہلاکت کی خبروں کو محض افواہ قرار دے کر اب تک مسترد کر تی چلی آرہی ہے۔

بنوں کا علاقہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے جنوب مشرق میں دو سو ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ قصبہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے ملحق ہے۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM