1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بندھے پاؤں، ’’خوبصورتی کی ایک پہچان‘‘

93 سالہ لم گوان سیوو، جن کے پاؤں بچپن میں اس مقصد کے لئے باندھے گئے تھے کہ وہ خوبصورت نظر آئیں، اب کہتی ہیں کہ اُنہیں اس پر سخت افسوس ہوتا ہے۔

default

لم گوان سیوو، جو چین کے جنوبی صوبے فوجیان میں پیدا ہوئیں، آج کل ملائیشیا میں زندگی بسر کر رہی ہیں۔ عورتوں کے پیر باندھنے کی رسم چین میں تقریباً دسویں صدی سے بیسویں صدی تک رائج رہی۔ عورتوں کے پیر اس طریقے سے باندھے جاتے تھے کہ وہ آٹھ سینٹی میٹر سے لمبے نہ ہونے پائیں۔ ایک عورت کے پیر جس قدر چھوٹے ہوتے تھے، اُتنا ہی اُسےخوبصورت تصور کیا جاتا تھا۔ چین اور جاپان میں چھوٹے پاؤں خوبصورتی کی علامت سمجھے جاتے تھے۔

لم گوان سیوو کے پیر باندھنے کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا، جب وہ سات سال کی تھیں۔ ان کی والدہ ان کے پیروں کی ہڈیوں کو توڑتی تھیں اور پھر اُنہیں سوتی یا ریشمی پٹیوں سے باندھ دیتی تھیں تاکہ ہڈیاں بڑی نہ ہوں یعنی ہڈیوں کی نشو و نما نہ ہو۔ پھر تین سے پانچ دن تک بندھے رہنے کے بعد پیر کھول کر اُنہیں گرم پانی میں رکھا جاتا اور مالش کے بعد پھر سے باندھ دیا جاتا تھا، تاکہ اس طرح ان کی شکل نوک دار بن سکے۔

Peking 2008 Kunstspringen Blythe Hartley

جسم کے اعتبار سے پیروں کی لمبائی کا تناسب درست نہ ہو تو چلنے میں شدید مشکلات ہو سکتی ہیں

لم نے بتایا کہ وہ تقریباً ایک سال تک چلنے پھرنے کے قابل نہیں تھیں۔ وہ کہتی ہیں"اگر مجھے خود پھرسے اس بارے میں فیصلہ کرنے کا موقع ملے تو میں یہ کام ہرگز نہیں کروں گی۔"

اگرچہ پیر باندھنے کے اس رواج پر 1912ء میں حکومت کی طرف سے پابندی عائد کر دی گئی تھی لیکن بہت سے خاندانوں میں، خاص طور پر ملک کے دور دراز دیہی علاقوں میں غیر قانونی طور پر چوری چھپے بچیوں کے پیر پھر بھی باندھے جاتے رہے۔ پیر باندھنے کا یہ رواج زیادہ تر امیر اور بارسوخ خاندانوں میں عام تھا۔ اُن کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کی بیٹیوں کے پاؤں 8 سینٹی میٹر یا تین انچ سے بڑے نہ ہوں۔ پیر باندھنے کی اس روایت کی سب سے مشہور اور اذیت ناک قسم کو" گولڈن لوٹس" کہتے تھے۔

لم گوان سیوو کہتی ہیں:"میرا تعلق بہت امیر خاندان سے نہیں تھا لیکن میں نے اپنے پیر اس لئے بندھوائے کہ میری شادی ہو سکے۔"

لم گوان سیوو کے پیر پٹیاں کھولنے کے بعد اب 5 انچ تک لمبے ہوئے ہیں۔ لیکن انہیں چلنے پھرنے کے لئے اب بھی خاص جوتوں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے،جو خصوصا پاؤں باندھے جانے والی خواتین کے لئے بنائے جاتے ہیں۔ وہ چین کی ان چند خواتین میں سے ہیں، جو اپنی اس بدصورتی کے ساتھ جی رہی ہیں۔ ان کی نسل کی اکثر خواتین کا اب انتقال ہو چکا ہے۔

China zwei Frauen mit Handy in Peking

چین میں ایک عرصے تک چھوٹے پیروں کو حسن کی علامت سمجھا جاتا تھا

لم کے بیٹےکا کہنا ہے کہ جب لم تیس سال کی عمر میں ملائیشیا آئیں، تو اُن سے زبردستی کھیتوں میں کام کروایا گیا، جو کہ اُن کے لئے انتہائی کٹھن تھا۔

جوتے بنانے کا قدیم فن

چمڑے سے بنے ہوئے چھوٹے جوتے، جو لم گوان سیوو نے پچھلے ہفتے ملائیشیا کے ساحلی شہر مالاکہ سے خریدے، خاص طور پر اُنہی کے لئے بنائے گئے تھے۔ اس قسم کے جوتے بنانے کا کاروبار اس شہر میں پہلے بہت اچھا تھا۔ جفت ساز یہاں آباد ہونے والی چینی کمیونٹی کے لئے اس قسم کے جوتے بناتے تھے۔

جو تے بنانے کا کاروبار کرنے والے یوو انگ، ٹونی یوو اور ریمنڈ یوو تیسری نسل ہیں۔ اُن کے خاندان نے یہاں 1918ء میں یہ کاروبار شروع کیا تھا اور ان کے زیادہ تر گاہک پندرھویں صدی سے یہاں آباد چینی تھے۔

ریمنوڈ بتاتےہیں:"میرے والد مجھے سنایا کرتے تھے کہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں امیر خاندانوں کی یہ خواتین، جن کے پاؤں بندھے ہوتے تھے، اُن کے پاس جوتے بنوانے کے لئے آیا کرتی تھیں۔"

لیکن اب یہ کاروبار ختم ہو رہا ہے اور ٹونی یوو کے مطابق صرف چند خواتین ہی باقی ہیں، جن کے لئے یہ جوتے بنائے جاتے ہیں۔ اب زیادہ تر جوتے یہاں آنے والے سیاحوں کو فروخت کئے جاتے ہیں، جو اُنہیں یادگار کے طور پر ساتھ لے کر جاتے ہیں۔

رپورٹ : بریخنا صابر

ادارت : سائر ہ حسن