1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بندوق چھوڑ کر قلم اُٹھا لیا

عمر حامد نے پاکستانی پولیس میں شمولیت اپنے والد کے قتل کا انتقام لینے کے لیے اختیار کی تھی۔ بارہ سال بعد انہوں نے پولیس کی نوکری چھوڑ دی اور اب وہ ناول نگاری کر رہے ہیں۔ وہ ادیب کیسے بنے؟

default

عمر حامد کے اب تک دو متاثر کن ناول شائع ہو چکے ہیں۔ اِن میں انہوں نے اُن جرائم پیشہ کرداروں کے بارے میں لکھا ہے، جن سے اُن کی ملاقات اس دوران ہوئی جب وہ کراچی میں انسداد دہشت گردی فورس کا حصہ تھا۔ بیس ملین کی آبادی والے کراچی کا شمار دنیا کے خطرناک ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ اس شہر میں طالبان، منشیات فروش، مختلف قسم کے مافیا، کرائے کے قاتل اور دیگر جرائم پیشہ گروہ موجود ہیں۔ حامد بتاتے ہیں کہ ان کی جگہ جس شخص نے پولیس میں شمولیت اختیار کی تھی، طالبان نے اسے قتل کر دیا تھا۔ مقتول پولیس افسر نے عمر حامد کے والد کے قاتلوں کو گرفتار کیا تھا اور وہ اس کا سب سے قریبی دوست بھی تھا۔

حامد کراچی میں جر ائم کی تحقیقات کے محکمے کے سربراہ تھے اور یہ ادارہ خاص طور پر عسکریت پسندی کے خلاف قائم کیا گیا ہے۔ ان کی نئی کتاب کا نام ’’ دی اسپنرز ٹیل‘‘ یعنی اسپنر کی کہانی ہے اور اس میں انہوں نے عمر سعید شیخ کی کہانی بیان کی ہے۔ عمر شیخ برطانیہ میں پیدا ہوا تھا اور وہ وہیں کا گریجویٹ بھی ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے وال اسٹیرٹ جنرل کے رپورٹر ڈینیئل پیرل کا سر قلم کیا تھا۔ حامد کے بقول اس نے پولیس کی نوکری کے دوران دہشت گردی کی جانب راغب متوسط گھرانوں کے متعدد تعلیم یافتہ نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا۔ 37 سالہ حامد نے نرم انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’یہ نوجوان ایک ایسے کھیل کا حصہ بننے کے لیے بے تاب تھے، جو ان کی پہنچ سے باہر تھا۔‘‘

’’ دی اسپنرز ٹیل‘‘ بھارت کے اشاعتی ادارے پین میکملن نے جون میں شائع کی ہے۔ اس کتاب کی یورپ میں اشاعت کے بارے میں بات چیت جاری ہے۔ حامد کی پہلی ناول’’ دی پرزنر‘‘ یعنی قیدی تھی۔ وہ کہتے ہیں’’ فکشن آپ کو مختلف انداز سے سچ بیان کرنے کا ایک طرح کا لائسنس مہیا کرتا ہے‘‘۔ وہ کہتے ہیں کہ پولیس کا محکمہ اس طرح کی بہت سی کہانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ حامد ایک سینیئر سرکاری افسر کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ملک کے بہترین اسکولوں میں حاصل کی اور اعلی تعلیم برطانیہ میں مکمل کی۔