بندروں کے منافع بخش کاروبار کی امید کرتا چینی گاؤں | معاشرہ | DW | 03.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بندروں کے منافع بخش کاروبار کی امید کرتا چینی گاؤں

چین میں ماؤزے تنگ کے عشروں کے دورِ اقتدار کے دوران بندروں کو کھایا تو جاتا تھا تاہم انہیں سدھانے یا پالتو جانور کے طور پر رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ ایک چینی گاؤں میں بندروں کو تربیت دینے کا کام صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔

Chinesisches Frühlingsfest 2016 Neujahr Mond Affen Dressur

بندر چین میں ایک اجتماع کے موقع پر مختلف طرح کے کرتب دکھا رہے ہیں

چین میں عنقریب بندروں کا سال شروع ہونے والا ہے۔ ایسے میں چینی صوبے ہینان کے ایک گاؤں میں، جہاں لوگ گزشتہ کئی سو برسوں سے بندروں کو سدھانے کا کام کرتے چلے آ رہے ہیں، آنے والے سال میں خوب پیسہ بنانے کی امید کی جا رہی ہے۔ اس دیہی چینی علاقے میں زمین کھردری اور سخت ہے، جس کی وجہ سے وہاں پر فصلیں اگانا محال ہے۔ ان حالات میں ایک زمانے سے اس پسماندہ خطّے کے باسیوں کی گزر بسر کی یہی صورت ہے کہ وہ بندروں کو مختلف طرح کے کرتب سکھاتے ہیں اور اس سے پیسہ بناتے ہیں۔

باؤ وان نامی اس گاؤں کے قریب بندر دیوتا کے لیے ایک مندر بھی بنایا گیا ہے۔ اس مندر میں بندر بادشاہ کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے، جو چینی لوک کہانیوں اور ادب کا ایک مقبول کردار ہے۔ اس مندر میں عبادت کے بعد باہر نکلنے والے ساٹھ سالہ ژانگ ژی جیو نے، جو ماضی میں بندروں کو سدھانے کا کام کرتا رہا ہے، بتایا: ’’آنے والا سال بندروں کا سال ہے، اس لیے ہم سیاحوں کے لیے بندروں کے کرتبوں کے مقابلے منعقد کریں گے۔ اسی لیے ہم سب اس مندر میں آتے ہیں اور اگر بتیاں سلگاتے ہیں۔‘‘

چین میں کسی باقاعدہ لائسنس کے بغیر بندر پالنا منع ہے لیکن باؤ وان کے ڈھائی ہزار باسی اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔ اس گاؤں میں کئی ایک بندروں کو دھاتی پٹہ پہنایا گیا ہے۔ یہاں انہیں بائیسکل چلانا یا بانسوں پر چلنا سکھایا جاتا ہے۔ ایک تربیت دینے والا دیہاتی ایک ایسے بندر کی جانب خنجر پھینک رہا تھا، جس نے ایک گھومتے ہوئے سلنڈر پر رکھے لکڑی کے تختے پر اپنا توازن برقرار رکھا ہوا تھا۔ آگے سے یہ بندر بڑی تیزی اور پھرتی سے ان خنجروں کو پکڑتا اور اپنے دانتوں میں دباتا چلا جا رہا تھا۔

ستاون سالہ فان ہاؤ ران اپنی جوانی کے زمانے سے بندروں کو سدھاتا چلا آ رہا ہے اور ملک کا کونا کونا گھوم چکا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ بندروں کو تربیت دینے کے سلسلے میں بنیادی اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ آپ اس جانور کے ساتھ ایک قریبی تعلق قائم کریں: ’’سب سے پہلے اُن کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد آپ کو بہت ہی سست رفتاری سے سکھانے کے عمل کو آگے بڑھانا چاہیے۔ مثلاً مصافحہ کرنا یعنی ہاتھ ملانا سکھانا ہے تو آپ مسلسل ایسا کرتے رہیں، ایک وقت آئے گا کہ آپ کا ہاتھ اُس کی یادداشت کا حصہ بن جائے گا۔‘‘

چین میں جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرمی نہ ہونے کے برابر ہے۔ بندروں کی افزائش کی چینی انجمن کے ایک نمائندے ژانگ جون ران اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ باؤ وان نامی گاؤں میں بندروں کے ساتھ کیا جانے والا سلوک متنازعہ رہا ہے تاہم وہ کہتے ہیں کہ آج کل کے دور میں بندروں کو سدھانے کے لیے کہیں زیادہ نرم اور ہمدردانہ طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں۔

Chinesisches Frühlingsfest 2016 Neujahr Mond

چین میں بندر کے سال کے حوالے سے ملک بھر میں اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں

ستاون سالہ ژانگ ژی جی نے بتایا: ’’یہ کام میرے دادا نے شروع کیا تھا، پھر میرے باپ سے ہوتا ہوا یہ کام مجھ تک آیا ہے۔ میرے بچوں نے پہلے پرائمری اسکول کی تعلیم حاصل کی، پھر کالج چلے گئے۔ اُن کی تعلیم کے سارے اخراجات میں نے اُس رقم سے پورے کیے، جو میں بندروں کے کرتب دکھا کر کماتا تھا۔‘‘

لیکن یہ خاندانی کاروبار اب ختم بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اُس کے بچے بندروں کے کرتب دکھانے میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔ ممکن ہے کہ وہ اس قدیم روایت کو برقرار نہ رکھ پائیں۔