1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بندروں اور انسانوں کے مشترکہ اجداد، نئی تحقیق

ایک تازہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ انسانوں اور بندروں کے آخری مشترکہ اجداد غالباﹰ آج سے 28 اور 24 ملین سال پہلے تک پائے جاتے تھے، جس کے بعد ارتقائی عمل کے دوران ان جانداروں کے راستے جدا ہو گئے تھے۔

default

اب تک کے عمومی اندازے یہ تھے کہ انسانوں اور بندروں کی موجودہ نسلیں جن مشترکہ اجداد کی وجہ سے اپنی بقا کو یقینی بنا سکیں، وہ کم ازکم ساڑھے تین کروڑ سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل تک زندہ تھے۔ تاہم نئی تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ ایسے جانداروں کا وجود زیادہ سے زیادہ بھی 28 ملین برس قبل ختم ہو گیا تھا۔

فرانسیسی دارالحکومت پیرس سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ماہرین کو کچھ عرصہ قبل سعودی عرب کے مغربی علاقے سے جانوروں کی ایک نامعلوم قسم کی ایک ایسی کھوپڑی ملی تھی، جس کے تفصیلی مطالعے سے پتہ یہ چلا کہ کروڑوں سال پہلے بندروں سے انسانوں تک کا نسلی ارتقائی سفر کس طرح مکمل ہوا تھا۔

BdT Kenia Wissenschaft Evolution Fosil Homo erectus

ایک کھوپڑی کا مطالعہ، صدیوں کے شواہد

سائنسی اصطلاح میں بندروں اور انسانوں کی حیوانی نسلوں پر مشتمل مشترکہ گروپ کو ہومینائڈز (Hominoids) کہا جاتا ہے۔ حیاتیاتی ارتقاء کے ماہرین کا کچھ عرصہ پہلے تک خیال یہ تھا کہ ہومینائڈز کا وجود کم ازکم بھی 30 ملین سے لے کر 35 ملین سال پہلے ناپید ہو گیا تھا۔ لیکن نئی تحقیق کی روشنی میں ایسا محض 28 اور 24 ملین سال قبل ہوا تھا۔

معروف سائنسی تحقیقی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب سے ملنے والی جانوروں کی ایک تب تک نامعلوم قسم کی جزوی کھوپڑی کے جینیاتی مطالعے سے پہلی مرتبہ یہ سمجھنا بھی ممکن ہو گیا کہ حیوانوں کی ’اولڈ ورلڈ مونکی‘ نامی قسم کو کس دور میں کس رفتار سے نسلی ارتقاء کے عمل سے گزرنا پڑا تھا۔

Zwei Hominiden, menschliche Entwicklung und Evolution

انسانوں کی حیوانی نسلوں پر مشتمل مشترکہ گروپ کو ہومینائڈز کہا جاتا ہے

اس تحقیقی منصوبے کی قیادت کرنے والے امریکہ کی مشیگن یونورسٹی کے ایک پروفیسر ولیم سینڈرز کا کہنا ہے کہ بندروں اور انسانوں کے مشترکہ اجداد کے ناپید ہو جانے کے عرصے سے متعلق نئے عصری شواہد یہ تو واضح کر دیتے ہیں کہ ان دونوں طرح کے حیوانوں کے اپنے اپنے مخصوص اجداد کا نسلی وجود کس دور میں ممکن ہوا تھا۔ تاہم یہ دریافت اہم ہونے کے باوجود اس حقیقت پر اثر انداز نہیں ہو سکتی کہ سائنسدانوں کے بقول نسل انسانی کی ابتداء کیسے ہوئی تھی۔

ماہرین نے سعودی عرب سے ملنے والی قدیم حیوانی کھوپڑی کا مطالعہ کر کے جانوروں کی تب تک نامعلوم اس نسل کو سعدانیئس (Saadanius) کا نام دیا ہے۔ یہ حیوانی کھوپڑی گزشتہ برس مشیگن یونیورسٹی کے ایک محقق کو سعودی عرب میں ارضیاتی سروے کے محکمے کی ایک ٹیم کے ساتھ کام کرتے ہوئے الحجاز نامی صوبے سے ملی تھی۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM