1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بم کی افواہ، پاکستانی ہوائی جہازوں کی ہنگامی لینڈنگ

بم کی اطلاع ملنے پر پاکستانی انٹر نیشنل ائیرلائنز کے دو طیاروں کی اسنتبول اور کوالالمپور کے ہوائی اڈوں پر ہنگامی لینڈنگ کی گئی، تاہم بموں کی موجودگی کی خبر افواہ نکلی۔

default

اناطولیہ خبر رساں ادارے کے مطابق استنبول کے سکیورٹی حکام نے کتوں کی مدد سے گھنٹوں تک بوئینگ 777-300EA  کی مکمل تلاشی لی۔ اس بین الاقوامی پرواز میں 378 مسافر سوار تھے۔ ٹیلی وژن سی این این ترک اور این ٹی وی نیوز چینل نے ائیر پورٹ حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ، ’’کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں پایا گیا، بم کی اطلاع ایک افواہ تھی۔‘‘

مانچیسٹر میں ہوائی اڈے کے ایک ترجمان نے بتایا، ’’لاہور سے اڑنے والے اس ہوائی جہاز کی منزل مانچیسٹر تھی تاہم ہنگامی بنیادوں پر اس کا رخ استنبول کی طرف موڑ دیا گیا تھا۔

Pakistan International Airlines

پی آئی اے حکام کو ایک ای میل موصول ہوئی تھی کہ پی آئی اے کے ہوائی جہازوں پر بم رکھے گئے ہیں

اناطولیہ نیوز ایجنسی کے مطابق بم کی اطلاع ملتے ہی مسافروں میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی۔ جس وقت یہ اطلاع دی گئی پاکستانی ائیر لائن کا یہ جہاز بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ پر محو پرواز تھا۔ عالمی وقت کے مطابق استنبول ائیر پورٹ پر ہنگامی لینڈنگ سہ پہر دو بجے کے قریب ممکن ہوئی اور تمام مسافروں کو سکیورٹی زون منتقل کر دیا گیا۔

اسی طرح ایک پاکستانی ہوائی جہاز کی ہنگامی لینڈنگ ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں مقامی وقت کے مطابق رات نو بج کر چوبیس منٹ پر کی گئی۔ اس طیارے پر 187 افراد سوار تھے۔ ائیر پورٹ حکام کے مطابق اس جہاز سے بھی کوئی بم یا دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔  کوالالمپور ائیر پورٹ حکام نے کا کہنا تھا، ’’ ہمیں مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بج کر پینتالیس منٹ پر پی آئی اے  حکام کی طرف سے اطلاع موصول ہوئی کہ فلائٹ PK898 میں ممکنہ طور پر ایک بم ہو سکتا ہے۔‘‘

پی آئی اے کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس کی تصدیق کی ہے۔ ان کا خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہمیں ایک ای میل موصول ہوئی تھی کہ پی آئی اے کے ہوائی جہازوں پر بم رکھے گئے ہیں۔ ہوائی جہاز اپنی منزلوں کی طرف اڑ چکے تھے اسی لیے پائلیٹس کو فوری طور پر قریبی ائیر پورٹ پر اترنے کا حکم دیا گیا تھا۔‘‘

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: شامل شمس 

DW.COM