1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بم کو ماں سے منسوب کرنا مناسب نہیں، پوپ فرانسس

مسیحیوں کے سب سے بڑے مذہبی رہنما پوپ فرانسس نے امریکا کی جانب سے دنیا کے سب سے بڑے غیر ایٹمی بم کو ’بموں کی ماں‘ کا نام دینے کی مذمت کی ہے۔ پوپ کا کہنا ہے کہ ماں کا لفظ بم جیسے مہلک ہتھیار کے ساتھ منسوب کرنا غلط ہے۔

گزشتہ ماہ امریکی فوج کی جانب سے افغانستان کے صوبے ننگرہار میں ایک امریکی فوجی طیارے سے داعش کی سرنگوں کے سلسلے پر پھینکے گئے دنیا کے سب سے بڑے غیر جوہری بم کو عرف عام میں ’ایم او اے بی‘ یا  ’تمام بموں کی ماں‘ کہا جاتا ہے۔ اور اس کا باقاعدہ نام ’جی بی یو 43 ‘ ہے۔

اس بم کا وزن قریب دس ہزار کلوگرام تھا اور اس نے اپنے ہدف کو جی پی ایس نظام کی مدد سے نشانہ بنایا۔ پوپ فرانسس نے ہفتے کے دن طلبا کے ایک اجتماع سے خطاب میں کہا کہ اُنہوں نے جب اس مہلک ہتھیار کے ساتھ ماں کا نام جُڑا ہوا سنا تو انہیں بے حد شرمندگی محسوس ہوئی۔

پوپ کا کہنا تھا،’’ ماں جنم دیتی ہے اور یہ ہتھیار موت دیتا ہے اور ہم اسے ماں کہہ رہے ہیں؟ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟‘‘

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پشیواپوپ فرانسس 24 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات ممکنہ طور پر کچھ عجیب نوعیت کی ہو گی، جس دوران  پوپ فرانسس اور امریکی صدر مہاجرت، تارکینِ وطن اور ماحولیاتی تبدیلی کے موضوعات پر بات چیت کریں گے۔ خیال رہے کہ ان معاملات پر دونوں رہنما اختلافی موقف رکھتے ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic