1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بمباری کے خوف سے حلب چھوڑ کر نکلتے شامیوں کا المیہ

شامی باغیوں کے زیر قبضہ حلب کے علاقوں پر شامی صدر کی فوجوں کی جانب سے بمباری سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ڈھائی سو تک جا پہنچی ہے۔ اس صورت حال میں حلب چھوڑ کر جانے والے شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری شام میں ملک گیر جنگ بندی کی کوششوں کے سلسلے میں آج جنیوا پہنچ رہے ہیں جہاں وہ سعودی عرب اور اردن کے وزراء خارجہ سے ملاقات کریں گے۔

امریکا نے روس سے درخواست کی تھی کہ وہ حلب پر جاری فضائی بمباری روکنے کے لیے اسد حکومت پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ واشنگٹن کے اس مطالبے کے جواب میں روسی نائب وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ اسد حکومت کی جانب سے کیے جانے والے حملے دہشت گردوں کے خلاف ہیں۔

اس ساری صورت حال میں باغیوں، داعش اور اسد حکومت کے درمیان پھنسے حلب کے باشندوں کا انخلا مسلسل جاری ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق روسی وزارت دفاع نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ جنگ بندی میں حلب شہر کو بھی شامل کرنے کے لیے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔

اسد حکومت کی فضائی بمباری کی وجہ سے مکمل جنگ بندی کی کوششوں کو ایک مرتبہ پھر خطرہ درپیش ہے۔ تاہم حلب کے علاوہ شام کے دیگر علاقوں میں جنگ بندی پر عمل درآمد ابھی تک قائم ہے۔ ریڈ کراس کا کہنا ہے شامی کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے کا کام جاری ہے۔

حلب میں فائر بندی کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بھی متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ لندن میں قائم سیریئن آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز باغیوں کے زیر قبضہ حلب کے مشرقی علاقے میں اٹھائیس فضائی حملے کیے گئے۔ اس علاقے میں ڈھائی لاکھ سے زائد شہری موجود ہیں۔

Syrien Krieg Kämpfe in Aleppo

حلب تباہ ہو چکا لیکن بمباری کا سلسلہ پھر بھی جاری ہے

اس کے برعکس روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی تین مرتبہ خلاف ورزی کی گئی اور تینوں مرتبہ یہ خلاف ورزیاں باغیوں کی جانب سے کی گئیں۔ دوسری شام کے سرکاری خبر رساں ادارے سانا نے ان خلاف ورزیوں کا ذمہ دار القاعدہ سے منسلک جنگجو تنظیم النصرہ کو ٹھہرایا ہے۔

بھاگنے کا صرف ایک راستہ

ادھر حلب کے مشرقی علاقے سے نکل کر محفوظ مقامات کا رخ کرنے والے شامی خاندانوں کے لیے بھی دشواریاں ہیں۔ علاقے سے باہر نکلنے کے لیے صرف ایک سڑک ہے اور وہاں بھی حملوں کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

دوسری جانب ریڈ کراس نے جمعے کے روز دو ہسپتالوں پر کی گئی بمباری پر شدید تنقید کی ہے۔ ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ ایسے حملے جنگی جرائم میں شامل ہوتے ہیں اور انہوں نے تمام متحارب گروہوں سے تشدد ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

سماوہ میں دو بم دھماکے، بتیس ہلاک، درجنوں زخمی

ویڈیو دیکھیے 01:56

شام میں طبی مراکز بھی بمباری سے محفوظ نہ رہے

DW.COM

Audios and videos on the topic