1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بلیک واٹر جرمانہ ادا کرنے پر تیار

سلامتی کی خدمات فراہم کرنے والی نجی امریکی کمپنی Xe جسے بلیک واٹر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، امریکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر 42 ملین ڈالر کا جرمانہ ادا کرنے پر تیار ہوگئی ہے۔

default

ٹائمز نے اس سکیورٹی فرم سے وابستہ ذرائع کے حوالے سے ان خبروں کی تصدیق کی ہے

نیو یارک ٹائمز کے تازہ جریدے کے مطابق یہ قوانین مبینہ طور پر برآمدات سے متعلق ہیں۔ امریکی اخبار کے مطابق Xe نے غیر قانونی طریقوں سے اسلحہ افغانستان برآمد کرنے اور تائیوان کی پولیس کو سنائپر ٹریننگ دینے سے متعلق سینکڑوں بے ضابطگیوں کے ضمن میں یہ جرمانہ ادا کیا ہے۔ ٹائمز نے اس سکیورٹی فرم سے وابستہ ذرائع کے حوالے سے ان خبروں کی تصدیق کی ہے۔ امریکی قوانین کے تحت مخصوص طرز کا اسلحہ و ٹیکنالوجی بیرون ملک بھیجنے کے لئے حکومت سے اجازت لینا ہوتی ہے تاہم اس کمپنی نے نا صرف آٹومیٹک اسلحہ افغانستان اور عراق منتقل کیا بلکہ مبینہ طور پر امریکی حکومت کو جان بوجھ کر اندھیرے میں رکھا۔ بلیک واٹر نے غیر ملکی حکومتوں اور اداروں سے ٹھیکوں کے حصول کے لئے امریکی قوانین کو خاطر میں نہیں رکھا۔

US Irak Blackwater Flash-Galerie

بلیک واٹر نے غیر ملکی حکومتوں اور اداروں سے ٹھیکوں کے حصول کے لئے امریکی قوانین کو خاطر میں نہیں رکھا

اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے وکلاء اور Xe کے عہدیداروں کے مابین طویل مذاکراتی سلسلے کے بعد یہ تصفیہ ہوا ہے۔ جرمانے کی رقم ادا کرنے کے بعد اب اس نجی سکیورٹی فرم پر مجرمانہ فعل کا الزام عائد نہیں کیا جائے گا اور وہ امریکی حکومت سے نئے ٹھیکے حاصل کرسکے گی۔ سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان ڈریڈلی ہولاڈے نے البتہ ان خبروں سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔

بلیک واٹر 1997ء میں امریکی نیوی کے افسر ایرک پرنس نے قائم کی اور 2009ء میں اس کا نام تبدیل کیا۔ اس سے قبل وہ عراق میں متعدد عام شہریوں کی ہلاکت کے واقعات میں ملوث ہونے کے باعث خاصی بدنام ہوچکی تھی۔ کمپنی کے پانچ اعلیٰ اہلکار اب بھی اسلحے سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے الزام کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ دو اہلکار 2009 ء میں کابل میں دو افغان شہریوں کے قتل کے الزام میں ملوث ہیں۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس