1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بلیک فوریسٹ کیک کی سوویں سالگرہ

سالگرہ پر کیک کاٹنا تو ایک روایت ہے ہی اور اس پر بھی کیا ہی اچھا ہو کہ کیک بلیک فوریسٹ ہو مگر اس برس خود بلیک فوریسٹ کیک کی سوویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔

جرمنی کا بلیک فوریسٹ یا ’سیاہ جنگلاتی‘ علاقہ کُکُو کلاک (گھڑیال جس میں ہر نئے گھنٹے کے آغاز پر چڑیا گھڑیال سے باہر آن جھانکتی ہے)، سرخ اونی ٹوپیوں، نمک سے محفوظ بنائے گئے سؤر کا گوشت اور خاص طور پر یہاں کے بلیک فوریسٹ کیک کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ سیاہ رنگت کا حامل، کریم، چیری اور روایتی طور پر الکوحل کی آمیزش سے تیارکردہ یہ کیک اپنی 100ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ اصل میں اس کیک کی جائے پیدائش یہ علاقہ نہیں۔

جنوبی جرمن شہر فرائی بُرگ کے قریب بلیک فوریسٹ ریجن کے ٹوڈٹنابرگ کے علاقے میں واقع ایک ہوٹل کے مالک فریڈی بوخ کا کہنا ہے، ’’بلیک فوریسٹ کیک بنانا، میرا روز کا کام ہے۔‘‘

بوخ دن میں ایسے کئی کیک بناتے ہیں اور ظاہر ہے، اس کے لیے اب انہیں کسی ترکیب کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا ہے کہ چیری اور الکوحل کی آمیزش اس کیک کو ایک خصوصی ذائقہ دیتی ہے۔

Schwarzwälder Kirschtorte

یہ کیک پوری دنیا میں شہرت کا حامل ہے

فرائی بُرگ میں بلیک فوریسٹ سیاحتی ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کرسٹوفر کرُل کہتے ہیں، ’’بلیک فوریسٹ کیک ہمارے علاقے کی سب سے مشہور برآمدی شے ہے، جرمنی میں بھی یہ کیک سب سے زیادہ مشہور اور پسند کیا جانے والا ہے۔‘‘ جرمنی کے اس چھوٹے سے علاقے کا یہ کیک آسٹریلیا سے لے کر ایشیا اور افریقہ سے لے کر شمالی اور جنوبی امریکا تک میں ہر جگہ جانا جاتا ہے۔

اس کیک کی کہانی کچھ یوں ہے کہ اسے پہلی بار سو برس قبل جوزف کیلر نے بنایا کیا، جو سن 1887 سے 1981 تک زندہ رہے۔ انہوں نے پہلی بار یہ طے کیا تھا کہ کریم، چیریز اور چیری سے کشید کی گئی الکوحل کو کیک میں استعمال کیا جائے۔ جوزف کیلر دریائے ڈینیوب کے کنارے واقعے جنوبی جرمن علاقے صوابیہ ریڈلِنگن سے تعلق رکھتے تھے، مگر وہ بون شہر کے علاقے باڈ گوڈس برگ میں کیفے آہرنڈ میں کام کرتے تھے۔ یہیں انہوں نے یہ کیک پہلی بار سن 1915ء میں تیار کیا تھا۔ اس کیک کی تاریخ کے مطابق بلیک فوریسٹ کیک کی جائے پیدائش کیفے آہرنڈ ہے مگر اب یہ کیفے اگنر کہلاتا ہے۔

بعد میں کیلر جھیل کونسٹانس کے کنارے واقع علاقے راڈولسیل منتقل ہو گئے تھے اور وہاں انہوں نے اپنا ایک کیفے کھول لیا تھا، جہاں وہ یہی کیک تیار کیا کرتے تھے اور وہیں یہ کیک رفتہ رفتہ مشہور ہوتا چلا گیا۔ اسی علاقے سے اس کیک نے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی اور یہ کیک بھی ایک طرح سے پوری دنیا کا سفر کرنے لگا۔

کیلر کے کیفے میں تربیت لینے والے ایک بیکر نے اس کیک کی اصل ترکیب حاصل کی اور اب وہ بلیک فوریسٹ کے علاقے میں واقع ٹریبرگ میں ایک پیسٹری شاپ میں موجود ہے۔