1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بلیک بیری کی سروسز پر تحفظات، پابندیاں

کینیڈین کمپنی RIM کے اس سمارٹ موبائل فون کے ذریعے بھیجے جانے والے ڈیٹا پر مختلف حکومتیں تحفظات ظاہر کرچکی ہیں، جن میں چین، بھارت، بحرین وغیرہ شامل ہیں۔

default

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے اس کی سروسز پر پابندی عائد بھی کر دی ہے۔ اس کے علاوہ جرمن حکومت نے بھی اپنے حکومتی اہلکاروں اور ملازمین کو بلیک بیری استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ بلیک بیری سروسز پر مختلف حکومتوں کے تحفظات کی آخر کیا وجہ ہے؟

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی طرف سے بلیک بیری سروسز پر پابندی کے اعلان کے بعد اب جرمن حکومت نے بھی اپنے وفاقی اہلکاروں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اہم معلومات کی ترسیل کے لئے بلیک بیری سمارٹ فون استعمال نہ کریں۔ جرمن وزارت داخلہ کے ایک ترجمان شٹیفان پارِس (Stefan Paris) نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو میں اس امر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ’’وفاقی حکومت نے اپنے اہلکاروں کو مشورہ دیا ہے کہ معلومات کی ترسیل کے لئے جرمن نیٹ ورکس کے فراہم کردہ فون سسٹم پر انحصار کریں۔ بلیک بیری کے ذریعے بھیجا جانا والا ڈیٹا غیر محفوظ ہے، جس کا ملک سے باہر غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی لئے واضح طور پر یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ اس طرح کے فون استعمال نہ کئے جائیں، خاص طور پرکسی بھی اہم اور خفیہ معلومات کی ترسیل کے لئے۔ اس لئے ہم نے تمام محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دوسرے سمارٹ یا موبائل فون استعمال کریں۔‘‘

بلیک بیری کے ذریعے بھیجے جانے والے ایس ایم ایس اور دیگر ڈیٹا کے حوالے سے آخر ایسی کونسی بات ہے کہ مختلف حکومتیں اسے قومی سلامتی کے لئے خطرناک قرار دیتی ہیں؟

Finanzmarkt Dubai Vereinigte Arabische Emirate

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں بلیک بیری سروسز پر پابندی عائد کی جا چکی ہے

دراصل بلیک بیری کے ذریعے جو بھی ایس ایم ایس، ای میل یا دیگر انٹرنیٹ معلومات بھیجی جاتی ہیں، وہ کسی بھی ملک میں موجود تمام تر نیٹ ورکس کو بائی پاس کر کے براہ راست ملک سے باہر بھیج دی جاتی ہیں، یعنی اس ڈیٹا کی وصولی اور ترسیل صرف برطانیہ اور کینیڈا میں موجود کمپیوٹر سرورز کے ذریعے ہی کی جاتی ہے۔ لہٰذا کوئی بھی حکومت اپنے شہریوں کی جانب سے بھیجی جانے والی معلومات تک نہ تو رسائی حاصل کر سکتی ہے اور نہ ہی یہ جان سکتی ہے کہ کس قسم کی معلومات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف بلیک بیری کے ذریعے بھیجے گئے ڈیٹا تک صرف برطانیہ اور کینیڈا میں موجود افراد یا حکام ہی رسائی رکھتے ہیں۔ بلیک بیری کی خاصیت یا فیچر کو مختلف حکومتیں ملکی سلامتی کے لئے خطرناک قرار دیتی ہیں۔ جن حکومتوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے یا بلیک بیری سروسز پر پابندی عائد کی ہے وہ RIM سے مطالبہ کر چکی ہیں کہ انہیں ملک کے اندر ہی بلیک بیری ڈیٹا تک رسائی دی جائے۔

سعودی عرب کی ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹری اتھارٹی نے جمعے کے دن سے ملک میں بلیک بیری کی تمام سروسز پر پابندی لگانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ سعودی عرب کے اطلاعاتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کے کمیشن (CITC) کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ جمعہ چھ اگست سے بلیک بیری سروسز معطل کر دی جائیں گی۔ CITC کے مطابق یہ فیصلہ ریاستی سلامتی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ بلیک بیری کے ذریعے معلومات کا تبادلہ ملکی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتا۔ سعودی عرب میں بلیک بیری صارفین کی تعداد سات لاکھ کے قریب ہے۔

اس سے قبل متحدہ عرب امارات بھی 11 اکتوبر سے بلیک بیری کی سروسز معطل کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔ UAE کی ٹیلی کیمیونیکیشن اتھارٹی TRA کے مطابق بلیک بیری فون کے ذریعے بھیجا جانے والا تمام تر ڈیٹا فی الفور بیرون ملک چلا جاتا ہے، جہاں اس ڈیٹا کو ایک غیر ملکی تجارتی کمپنی کنٹرول کرتی ہے۔ اس ڈیٹا میں ایس ایم ایس پیغامات اور انٹرنیٹ کا استعمال بھی شامل ہے۔ چونکہ TRA کواس ڈیٹا تک کسی قسم کی رسائی حاصل نہیں ہوتی، لہٰذا اس کے خیال میں یہ بات ملکی سلامتی کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں بلیک بیری صارفین کی تعداد پانچ لاکھ کے قریب ہے۔

بلیک بیری سروسز پر بحرین حکومت کی طرف سے بھی رواں برس اپریل میں اعتراض اٹھایا گیا تھا۔

دوسری طرف بلیک بیری تیار کرنے والی کینیڈا کی کمپنی ریسرچ ان موشن RIM نےگزشتہ ہفتے اعلان کیا کہ سکیورٹی خدشات کے حوالے سے بھارتی حکومت کے ساتھ جاری تنازعہ جلد ہی حل کر لیا جائے گا۔ تاہم اس کمپنی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ بھارتی حکام کو بلیک بیری کے ذریعے بھیجے جانے والے SMS پیغامات اور دیگر انٹرنیٹ معلومات تک رسائی نہیں دی جائے گی۔ RIM کے ایک ترجمان سچیت گائکواڈ نے اس سلسلے میں میڈیا رپورٹوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت کے ساتھ اس مسئلے کے قابل قبول حل کے لئے بات چیت جاری ہے تاہم ''بلیک بیری صارفین کی سکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔’’

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس