1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بلڈ پریشر کیسے چیک کیا جائےِ؟

بلڈ پریشرجانچنے کے لئے اب نئے ڈیجیٹل آلات نہ صرف مارکیٹ میں بھرے پڑے ہیں بلکہ طبی ماہرین بھی ان آلات کو ترجیح دیتے ہیں تاہم سوال یہ ہے کہ یہ جدید آلات کس حد تک درست معلومات فراہم کرتے ہیں۔

default

ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بلڈ پریشرچیک کرنے والے جدید ڈیجیٹل آلات کے نتائج سو فیصد ٹھیک نہیں ہوتے ہیں اورکبھی کبھارغلط معلومات بھی دے سکتے ہیں۔

فشارخون جانچنے کے لئے کچھ عرصہ پہلے پارے والے آلات استعمال کئے جاتے تھے اورساتھ ہی طبی ماہرسٹیتھو سکوپ کی مدد سے نبض کی آواز بھی سنتا تھا تاکہ غلطی کی کوئی گنجائش ہی نہ رہے۔ لیکن اب نئے طریقوں کی مدد سے جدید آلہ خود ہی خون کا دباؤ بتا دیتا ہے۔

لاس اینجلس کے ایک ہسپتال سے وابستہ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے اپنے نئے مطالعے میں کہا ہے کہ بلڈ پریشر چیک کرنے کے لئے جدید ڈیجیٹل آلات مخصوص حالات میں غلط معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔

اس ٹیم کے سربراہ ڈاکٹررابرٹ اے کلونر نے کہا کہ 65 برس یا اس سے زائد عمر کے لوگوں میں ڈیجیٹل بلڈ پریشر آلہ بلند فشار خون یا ہائی بلڈ پریشر کو کم بتا سکتا ہے اور اس لئے اگر مریض کو فوری طورپرخون کا دباؤ کم کرنا ہو توغلط معلومات کی وجہ سے معاملہ خراب بھی ہوسکتا ہے۔

Blutdruck

بلند فشار خون کے مریضوں کوخون کےدباؤ کی چیکنگ کے وقت زیادہ محتاط رہنا چاہئے

اس مطالعہ میں مزید کہا گیا ہے:’’اگرچہ ڈیجیٹل طریقہء کار کے تحت عام لوگ اورمریض خود بھی اپنا بلڈ پریشر چیک کرسکتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ آلات بڑی تعداد میں فروخت بھی ہو رہے ہیں، تاہم عمررسیدہ لوگوں کو اس آلے پر زیادہ اعتبار نہیں کرنا چاہئے۔‘‘

بلڈ پریشرچیک کرنے کے لئے پرانے پارے والے اور نئے ڈیجیٹل آلات کی کارکردگی جانچنے کے لئے کی گئیں تحقیقات کے ملے جلے نتائج برآمد ہوئے ہیں تاہم ڈاکٹرکلونر کا کہنا ہے کہ پارے والے پرانے آلات ہی استعمال کرنے چاہئیں کیونکہ ان کے بارے میں کوئی تنازعہ نہیں ہے۔

ڈاکٹرکلونرنے مریضوں کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے ڈاکٹروں کے ساتھ بلڈ پریشر چیک کرنے کے مختلف طریقوں پربات چیت کریں۔ ڈاکٹر کلونرنے مزید کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب مریض کو معلوم ہو جائے کہ وہ بلند فشار خون کا مریض ہے تواسے ڈاکٹر کی ہدایت کے عین مطابق دوائی ضرورلینی چاہیے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM