1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’بلٹ ٹرین کے بعد اقتصادی ترقی گولی کی رفتار سے آگے بڑھے گی‘

بھارت میں تیز رفتار بلٹ ٹرین کی تعمیر میں جاپان بارہ ارب ڈالر انتہائی آسان شرائط پر دے گا۔ ٹوکیو حکومت کا یہ اعلان وزیراعظم شینزو آبے کے دورہ بھارت کے موقع پر سامنے آیا۔

جاپانی وزیر اعظم شینزو آبے نے دورہ بھارت کے موقع پر دونوں ممالک نے دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے اور غیر عسکری مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے منصوبوں پر بات کی۔ اپنے میزبان اور بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے ساتھ بات چیت میں آبے نے اور بھی دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔ مودی اور آبے دونوں قوم پرست رہنما ہیں اور دونوں کے مابین دوستانہ تعلقات ہیں۔ بلٹ ٹرین منصوبے کے تحت بھارت کے تجاری مرکز ممبئی کو ریاست گجرات کے تجارتی مرکز احمد آباد سے ایک انتہائی تیز رفتار ٹرین کے ذریعے جوڑ دیا جائے گا اور اس کے لیے خصوصی ہائی اسپیڈ ٹریک بھی بچھایا جائے گا۔ اس بلٹ ٹرین کے ذریعے ممبئی سے احمد آباد تک 505 کلومیٹر کا سفر سات سے آٹھ گھنٹوں میں طے کر لیا جائے گا۔

اس طرح بھارت میں ریلوے کے شعبے میں سرمایہ کاری پر جاپان کو چین پر فوقیت حاصل ہو جائے گی، جو دیگر بھارتی علاقوں میں ریلوے نیٹ ورک تعمیر کر نے کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔ نریندر مودی نے اپنے ایک خطاب میں کہا ’’یہ کاروباری معاہدہ بھارت کے ریلوے کے شعبے میں انقلاب لے آئے گا اور اس سے بھارت کا مستقبل تابناک ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔‘‘

آج ہفتے کے روز دفاعی شعبے میں ہونے والے اتفاق رائے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ آلات، ٹیکنالوجی اور عسکری معلومات کا تبادلہ کریں گے۔ اس دوران ان جاپانی جہازوں کی فروخت کے معاملے پر بات چیت نہیں ہوئی، جس کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ یہ معاہدے ایک ارب ڈالر سے زائد کی مالیت کا ہے۔ اسی طرح بھارت اور جاپان نے سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے تبادلے اور تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں تکنیکی شعبے میں غیر معمولی اختلافات کی وجہ سے باقاعدہ کسی معاہدے پر دستخط نہیں کیے گئے ہیں۔

ٹوکیو حکومت جوہری ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھارت سے اضافی ضمانت کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جاپان دنیا ایٹم بم کا نشانہ بننے والا دنیا کا واحد ملک ہے۔ ٹوکیو حکومت کا کہنا ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے جوہری ٹیکنالوجی کے عدم پھیلاؤ کی یقین دہانی کے بعد ہی نیوکلیئر ری ایکٹر برآمد کیے جائیں گے۔