1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بلوچ رہنماؤں کا قتل، سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس

سپریم کورٹ کی جانب سے بدھ کی رات جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بلوچ رہنماﺅں کے قتل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔

default

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کا تعلق بھی بلوچستان سے ہے

اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو تہرے قتل کی اس واردات کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری جن کا اپنا تعلق بھی بلوچستان سے ہے کی جانب سے اس واقعے کا از خود نوٹس لینے پر بلوچستان کے قوم پرستوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اس بارے میں معروف قوم پرست رہنما اور نیشنل پارٹی بلوچستان کے سینیٹر میر حاصل بزنجو کہتے ہیں : ” میں اس بات کو سراہتا ہوں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ایک اچھا اقدام ہے اگر اس میں واقعی تحقیقات ہوتی ہیں تو چیف جسٹس کے اس عمل سے بلوچستان میں ایک یقینی صورتحال قائم ہو سکتی ہے ۔“

خیال رہے کہ تین قوم پرست بلوچ راہنماﺅں لالہ منیر، شیر محمد بلوچ اور غلام محمدبلوچ کو اس سال 8 اپریل کو بلوچستان کے علاقے تربت میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا ۔جس کے بعد صوبے بھر میں پھوٹنے والے فسادات کے سبب نہ صرف درجنوں افراد کی جانیں گئیں بلکہ بڑے پیمانے پر سرکاری املاک اور نجی کاروبار کو بھی نقصان پہنچا ۔اس سانحے کی تحقیقات کےلئے بلوچستان ہائی کورٹ پہلے ہی ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کر چکی ہے لیکن قوم پرستوں نے عدالت کی طرف سے خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کو طلب نہ کرنے پر اس کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا تھا اور اب بھی ان قوم پرست رہنماﺅں کا مطالبہ ہے کہ چیف جسٹس اس سانحے کی مبینہ ذمہ دار خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کو طلب کریں۔

اس بارے میں تربت میں موجود قوم پرست رہنما عبدالحمید ایڈووکیٹ کہتے ہیں: ” اس سے ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ سوموٹو نوٹس خالصتاً ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے سوموٹو نوٹس جیسا ہوگا جہاں پر صرف اور صرف پولیس افسران کو طلب کیا گیا یا چیف جسٹس صاحب ایجنسیوں کو طلب کرنے کی جسارت کریں گے یا پھر وہ بھی پولیس افسران سے گفت و شنید کریں گے۔‘‘

دریں اثناء تجزیہ نگار چیف جسٹس کی جانب سے اس معاملے کا از خود نوٹس لینے کو خاصا اہم قرار دے رہے ہیں کیونکہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پہلے ہی بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان کر چکے ہیں۔ کیا اس از خود نوٹس کا اثر اس کل جماعتی کانفرنس پر بھی پڑے گا اس سوال کے جواب میں میر حاصل بزنجو کہتے ہیں : ” چیف جسٹس کے فیصلے کو ہم علیحدہ لیتے ہیں کیونکہ اس کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ آصف زرداری یا گیلانی صاحب کیا بولتے ہیں یہ چیف جسٹس آف پاکستان ہیں یہ عدلیہ کا سب سے بڑا ادارہ ہے ۔‘‘

دوسری جانب تجزیہ نگاروں کے خیال میں چیف جسٹس کے اس از خود نوٹس کے مستقبل میں سیاسی مضمرات بھی ہو سکتے ہیں جو کچھ جماعتوں کے لئے تو باعث اطمینان ہوں گے لیکن شاید حکمران جماعت کو ناگوار گزریں۔