1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بلوچستان: 26 ہزار کلوگرام چرس برآمد، مالیت اربوں روپے

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے منشیات کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اس دوران ضلع پنجگور اور قلعہ عبداللہ میں اربوں روپے مالیت کی منشیات برآمد کی گئی ہے۔

بلوچستان کی وزارت داخلہ کے ایک سینئر اہلکار زاہد حسین کے بقول منشیات کے خلاف بڑے پیمانے پر یہ کارروائی وفاقی وزارت داخلہ کی ہدایت پر شروع کی گئی ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا، ’’منشیات سے حاصل ہونے والی رقم بڑے پیمانے پر ملک دشمن سرگرمیوں میں استعمال ہو رہی ہے۔ آج صوبے بھر میں منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ روکنے کے لئے بڑے پیمانے پر، جو کارروائی شروع کی گئی ہے، اس میں انٹیلی جنس اداروں کے اہلکار بھی حصہ لے رہے ہیں۔ اس کارروائی کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ بلوچستان سے ان گروپوں کا خاتمہ کیا جائے، جو بڑے پیمانے پر اندرون اور بیرون ملک منشیات اسمگل کرتے ہیں۔‘‘

زاہد حسین نے بتایا کہ آپریشن کے دوران منشیات کے سات اسمگلروں کو بھی گرفتارکیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’منشیات کے خلاف ہونی والی اس کارروائی کے دوران ضلع پنجگور میں ایک ٹرک سے ڈیڑھ سو کلو گرام ہیروئین جبکہ دو سو کلوگرام کرسٹل نامی مادہ برآمد کیا گیا ہے، جسے ہیروئن کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈرگ مافیا کے لوگ برآمد ہونے والی اربوں روپے مالیت کی منشیات کو اندرون ملک اسمگل کرنا چاہتے تھے۔‘‘

ایف سی کے ترجمان خان واسع کے بقول آج ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان میں منشیات کے دو فیکٹریاں بھی تباہ کی گئی ہیں۔ ڈی ڈبلیو سی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا، ’’ضلع قلعہ عبداللہ کے اکثر علاقے پاک افغان سرحد کے قریب واقع ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹ میں یہاں سے بڑے پیمانے پر منشیات کی اسمگلنگ کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ آج کارروائی کے دوران منشیات کی ایک فیکٹری اور قریب ہی واقع ایک گودام سے مجموعی طور پر 26 ہزار کلوگرام چرس برآمد کی گئی ہے۔ یہ چرس منشیات کے اسمگلر آئندہ دو یوم میں یہاں سے کراچی اور بعد میں دیگر علاقوں میں اسمگل کرنا چاہتے تھے۔‘‘

Drogen in Panjgoor

ضلع پنجگور میں ایک ٹرک سے ڈیڑھ سو کلو گرام ہیروئین جبکہ دو سو کلوگرام کرسٹل نامی مادہ برآمد کیا گیا

ایف سی ترجمان کا کہنا تھا کہ منشیات کی پیدوار اور اسمگلنگ روکنے کے لئے مرکزی حکومت نے ایف سی کو خصوصی ٹاسک دے رکھا ہے۔ انہوں نے مذید بتایا،’’ شدت پسندوں کے لئے منشیات کی اسمگلنگ فنڈز کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ایف سی نے پاک افغان اور پاک ایران سرحد سے ملحقہ علاقوں میں بھی منشیات کی اسمگلنگ ختم کرنے کے لئے سخت حفاظتی انتظامات کئے ہیں۔‘‘

سکیورٹی امور کے تجزیہ کار اور پروفیسر حسن عسکری رضوی کے بقول بلوچستان میں ڈرگز مافیا کے خلاف حالیہ آپریشن سے منشیات کی اسمگلنگ میں کمی کے ساتھ ساتھ ان شدت پسند گروپوں کی مالی حالت بھی کمزور پڑ جائے گی، جن کا زیادہ تر مالی انحصار منشیات سے حاصل ہونی والی رقم پر رہا ہے۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں حکومت اگر سنجیدگی سے ڈرگ مافیا کے خلاف یہ کارروائی پہلے ہی شروع کر دیتی تو شاید آج صورتحال اس سے بہت مختلف ہوتی۔ شورش زدہ علاقوں آواران، تربت، مشکے، نال اور دیگر علاقوں میں جو تنظیمیں حکومت کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں، ان کی فنڈنگ کی بعض دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک اہم وجہ یہ بھی ہے ان کے زیر اثر علاقوں میں منیشات کی بڑے پیمانے پر آزادانہ اسمگلنگ ہوتی ہے۔ منیشات فروشوں کے خلاف حکومت کی حالیہ کارروائی اگر کامیاب ہوئی تو اس سے بعض مزاحمت کار گروپوں کو بھی بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔‘‘

پروفیسر حسن عسکری رضوی کا کہنا تھا کہ ڈرگ مافیا کے خلاف آپریشن کو کامیاب بنانے اور فورسز کے لئے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ مقامی آبادی کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند بعض بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں بھی مختلف علاقوں میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں کرتی رہی ہیں۔

بلوچستان کی کالعدم بلوچ لبریشن آرمی بی ایل ایل میں ایک ایسی ونگ بھی ہے، جن کے کارندے بلوچ اکثریتی علاقوں میں ان افراد پر کئی حملے کر چکے ہیں، جو کہ مشنیات کی اسمگلنگ میں ملوث پائے گئے تھے۔ بی ایل اے ایسے کئی حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کرچکی ہے۔