1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بلوچستان کے آب گزیدہ خاک نشیں

پاکستان میں قریب چھ ماہ قبل آنے والے تباہ کن سیالب کے بعد سب سے زیادہ رقبے والے صوبے بلوچستان کے متاثرہ علاقوں کے دورے سے متعلق تاثرات ۔

default

سکھر بیراج سے گزرتے ہوئے میری نگاہ بے اختیار دریائے سندھ کی جانب اٹھ گئی۔ میری بائیں جانب غروب ہوتا ہوا زرد سورج اپنے اداس چہرے کا عکس اسی پانی میں دیکھ رہا تھا۔ Mighty Indus کے نام سے یاد کیے جانے والے اس دریا کو آج پرسکون انداز میں بہتے دیکھ کر شاید کوئی گمان بھی نہیں کر سکتا تھاکہ گزشتہ برس اگست کے مہینے میں اس کی تندی وتیزی کا کیا عالم تھا۔ گزشتہ سال جولائی کے اواخر میں برسنے والی طوفانی وطولانی مون سون بارشیں اوران کے نتیجے میں تباہ کن سیلاب پاکستان میں قصہ پارینہ بنتے جا رہے ہیں۔ سیل ِبلاخیز شمال جنوب تک بربادی کے ان مٹ نقوش ثبت کرتے ہوئے خود تو بآلاخر بحیرہ عرب کی بے کراں وسعتوں میں سکون کی نیند سو گیا مگر اپنے پیچھے نگاردامن ارض پہ بستے عوام کے لیے آہوں ، سسکیوں اور آنسوؤں سے عبارت تلخ یادیں بھی چھوڑ گیا۔

پھر میرے ذیہن کے نہاں خانوں میں محفوظ مناظر کسی Montage کی مانند بے ترتیب انداز میں ابھرنے لگے۔ ہاں وہ اسی دریا کا ہی تو پانی تھا، جو اپنے قرب وجوار میں آباد انسانوں کی کفالت کرتا چلا آیا تھا۔ کسی کی زراعت اس سے منسلک تھی تو کسی کی کوکھ میں پروردہ مچھلیوں کی صورت میں رزق ملتا تھا۔

Pakistan Flut Katastrophe 2010

میں سوچ رہی تھی کہ ازمنہ قدیم سے عصر حاضر تک کتنی ہی تہزیبیں اس کے آس پاس پروان چڑھیں۔ نہ جانے کس کس سے اس کا برتاؤ شفیق ماں جیسا تھا اور نہ جانے کون کون، کب کب اس کے غیض وغضب کا نشانہ بنا ہو گا۔ ہمیں تو اس کے زیر عتاب آنے والوں کے قصے تاریخ کے اوراق میں اٹھارہوں صدی کے آخری حصے ہی میں ملتے ہیں جب برصغیرپر انگریزحکمران تھے۔

پھر پانی کے شتر بے مہار کو قابو میں لانے کو بیراج بنے اور دائیں بائیں دوردراز علاقوں تک آب پاشی کے لیے نہری نظام بھی وضع ہوا۔ پیشتر وقت روای چین ہی چین لکھتا رہا۔ چند ایک بستیاں جو دریا کے قدرتی بہاؤ میں مزاحم ہوئیں، انہیں سبق سکھانے کے علاوہ دریا نے زیادہ سرکشی نہ کی۔ حضرت انسان نے دریا کی دی ہوئی ریاعتوں اورمشفق رویوں کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوششیں تیز کر دیں۔ پھر تیزی سے پھیلتی آبادیاں دریا کو سمٹ کر چلنے پر مجبور کرنے لگیں۔ اس کی حدود میں قبضے جاری رہے۔ دریا بےبسی سے تماشا دیکھتا رہا۔ دخل درمعقولات اور تجاویزات پر کڑھتا رہا اور پھر گزشتہ برس برسات کی کمک ملتے ہی اس نے پلٹ کر وار کر ڈالا۔

Pakistan Überschwemmung Flut

اسلام آباد سے سکھر تک کا ہوائی سفر تو بہ سہولت اورعجلت میں طے ہو گیا مگر سکھر سے جعفر آباد کی منزلیں تاحال بے نشان تھیں۔ بہرحال اگلی صبح باقی ساتھیوں کے ہمراہ اوستا محمد کے مضافات میں رواں ہم زندگی کو قریب سے دیکھنے کے لیے روانہ ہوئے۔ اوستا محمد خوش قسمتی سے قدرے بلند جگہ پر واقع ہونے اور سیلاب اور سیلاب سے قبل مٹی کے بند باندھ لیے جانے کی بنا پر سیلاب سے محفوظ رہا۔ مگر جوں ہی آبادی سے نکلے ہر جانب پانی کی تباہ کاریاں دکھائی دینے لگیں۔ ہم اوستا محمد کے شمال مغرب میں کیرتھر کینال سے متاثرہ یونین کونسل فیض آباد بیرون کے ایک گوٹھ پہنچے۔ گوٹھ کیا تھا، غیر ہموار زمین پر درختوں کی شاخوں، خشک گھاس اور پلاسٹک کی شیٹوں سے سائبان بنا کر اسے گھر تصور کیا جارہا تھا۔ پاکستان ریلیف کی ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے ارکان اپنے کام میں مصروف ہو گئےاورمیں چلتی چلتی ایک شکستہ ٹیلے جیسے گھر کے قریب کھڑی اپنی جانب حیرت سے دیکھتی خواتین کی جانب بڑھی۔ بیشتر بچے ہر چیز سے بے نیاز مٹی، ڈھیلوں اور کنکروں سے کوئی مقامی کھیل کھیلنے میں مصروف تھے اور کچھ ایک اجنبی کو اپنے درمیاں دیکھ کر خواتین کی آڑ میں چھپ کر جھانک رہے تھے۔ سلام و مصافحے نے یک لخت اجنبیت کا خول توڑ دیا۔

Dossierbild 1 Pakistan Flut

میں نے بات شروع کی تو اس دوران کچھ خواتین نے جلدی سے بان کی چارپائی جسے مقامی زبان میں کھٹ کہا جاتا ہے، بچھا کر اس پر ایک رنگا رنگ خوشنما موٹی چادر ’’رلی ‘‘ ڈال دی۔ ایک ادھیڑ عمر خاتون مہر بانو نے بتایا کہ سیلاب کی اطلاع پا کر صاحب حیثیت لوگوں نے اپنے کنبے کوئٹہ، کراچی وغیرہ منتقل کر دیے تھے۔ جو غریب پیچھے رہ گئے وہ آنے والی قیامت کے انتظار میں گن گن کر گھڑیاں بتاتے رہے۔ لوگوں نے درختوں کے تنوں سے قرآن بھی باندھے اور دعائیں کرتے رہے کہ پانی ان کے گھروں سے دور رہے۔ مگر ایک رات حشر کی رات ثابت ہوئی جب پانی کا ریلہ بلند ہوتے شور کے ساتھ ان کی بستی میں آن وارد ہوا۔ لمحہ بہ لمحہ بلند ہوتی پانی کی سطح نے ساری آسیں امیدیں بھی پامال کر ڈالیں۔ خوف نے ہر فرد کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ جن لوگوں نے احتیاطی تدابیر کے لیے درختوں پر مچانیں بنا لیں تھیں، انہوں نے بچوں اور خواتین کو ان پر چڑھا دیا۔ کچھ نے چھتوں کومحفوظ قرار دیا مگر جلد ہی انھیں اندازہ ہو گیا کہ مٹی کے درودیوار منہ زور پانی کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ بار بار مکان گرتے تو کم سن بچوں کی چیخیں نکل جاتیں۔ پو پھٹی تو ہم نے دیکھا کہ ہماری دنیا اندھیر ہو چکی ہے۔ گھر، مال اسباب، مویشی سب کچھ پانی اپنے ساتھ بہا کر لے جا چکا تھا۔ ہم مسلسل آٹھ روز درختوں پر بندھی چارپائیوں سے چپکے رہے۔ پھر فوجیوں نے پہنچ کر مدد کی۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس علاقے میں سیلاب ہرگز نہ آتا اگر جیکب آباد کے وڈیرے جان بوجھ کر ٹوری بند نہ ٹوڑتے۔

پاکستان ریلیف کے رضاکاروں نے اس علاقے کے لوگوں کی بہت مدد کی مگر وہ سب کچھ ان کے دکھوں کی دوا نہ تھا۔ بعدازاں مجھے بتایا گیا کہ اس نوعیت کا یہ ایک ہی واقعہ نہیں بلکہ اس سے ملتے جلتے حادثات دیگر جگہوں پر بھی رونما ہوتے رہے۔ سیلاب نے فی الحال ان لوگوں کی معاشی کمر توڑ ڈالی ہے۔ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی تیار فصلیں پانی کی نذر ہو گئیں تبھی توکسان محض بیج اور کھاد کے لیے قرضےاور معاونت کے طلب گار ہیں تو گلہ بان دس بارہ بھیڑ بکریوں کے ریوڑ سے زندگی کا سفر پھر شروع کرنے کے لیے پر عزم۔ شاید انہیں مچھلی نہیں، مچھلی پکڑنے کے لیے کانٹا اور ڈوری درکار ہے۔

رپورٹ: سائرہ بتول

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس