1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بلوچستان کا تعلیمی نظام تباہ ہو رہا ہے، ہیومن رائٹس واچ

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کالج اور سکولوں کے اساتذہ پر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے وہاں کے تعلیمی نظام کے تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔

default

امریکی شہر نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے بلوچستان پر کی گئی اپنی تحقیقی رپورٹ میں کہا ہے کہ اساتذہ پر تشدد کے واقعات میں اضافے سے بلوچستان میں شبعہ تعلیم کے مستقبل کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ پیر کو جاری کی جانے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پر تشدد واقعات کے نتیجے میں شعبہ تعلیم سے وابستہ ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

ایچ آر ڈبلیو کے جنوبی ایشیا کے لئے نمائندے علی دایان حسن نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے گزشتہ دو برسوں میں کم از کم 22 کے قریب اساتذہ اور شعبہ تعلیم سے وابستہ دیگر افراد کو ہلاک کیا ہے۔ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’اس بحران کے نتیجے میں بلوچستان ترقی کی راہ میں کئی دہائیاں پیچھے چلا جائے گا اور پورے صوبے میں تاریکی چھا جائے گی۔ صورتحال ایسی ہی رہی تو یہاں کے بچوں کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔’

Unruhen in Pakistanischen Grenzgebieten

پاکستانی فوجی بلوچستان میں گشت کرتے ہوئے

رپورٹ کے مطابق عسکریت پسندوں نے اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے عملے کو دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ سکولوں میں نہ تو پاکستان کی تاریخ پڑھائیں اور نہ ہی پاکستان کا جھنڈا اسکول کی عمارت پر لہرائیں۔ بم دھماکوں اور دیگر حملوں کے خوف کے باعث 2009ء میں بلوچستان میں سرکار ی تعلیمی ادارے صرف 120 دن کھولے گئے اور یہ دورانیہ ملک کے دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سو دن کم تھا۔

علی دایان کے مطابق صوبے کے دوسرے شہروں کے سرکاری سکولوں میں تعینات 200 سے زائد اساتذہ نے ڈر اور خوف کے مارے کوئٹہ میں تبادلے کرا لئے ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد پاکستان کے دوسرے حصوں کی طرف نقل مکانی کر گئی ہے۔ اس کے علاوہ دوسو دیگر اساتذہ اپنے تبادلے کروانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

بلوچستان میں کئی دہائیوں سے عسکریت پسند وہاں پائے جانے والے قدرتی وسائل پر قبضے کے لئے گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ پاکستان کے دوسرے امیر صوبے ان کا استحصال کر رہے ہیں۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل

DW.COM