1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بلوچستان: چونتیس علیحدگی پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے شورش زدہ علاقے قلات، جوہان اور ملحقہ علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران یونائٹڈ بلوچ آرمی کے چونتیس بلوچ علیحدگی پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کا تعلق بلوچستان کی آزادی کے لئے برسر پیکار علیحدگی پسند تنظیم یونائٹڈ بلوچ آرمی (یو بی اے) سے تھا۔

انہوں نے کہا، ’’عسکریت پسندوں کے خلاف یہ آپریشن انٹیلی جنس اطلاعات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث عسکریت پسند کافی عرصے سے اس علاقے میں روپوش تھے۔ تین روز سے جاری اس کارروائی کے دوران بڑے پیمانے پر اسلحہ اور جدید خودکار رائفلیں بھی برآمد کی گئی ہیں۔ ہلاک ہونے والے عسکریت پسند مستونگ میں گزشتہ سال مسافر کوچوں پر ہونے والے ان حملوں میں بھی ملوث تھے، جن کے دوران 20 سے زائد مسافر ہلاک ہوئے تھے۔‘‘

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کے ایک کمپاؤنڈ سے تلاشی کے دوران انتیس لاکھ روپے کی نقدی بھی برآمد کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا، ’’عسکریت پسندوں کے خلاف حالیہ کارروائی ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کارروائی کے دوران جو عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں، ان میں کالعدم تنظیم کے متعدد اہم کمانڈر بھی شامل ہیں۔ کارروائی کے دوران برآمد ہونے والی لاکھوں روپے کی ملکی کرنسی سے ہمارے اس موقف کی بھی تصدیق ہوئی ہے کہ بلوچستان میں شدت پسندوں کو اسپانسر کرنے والے عناصر انہیں بڑے پیمانے پر مالی معاونت بھی فراہم کرتے ہیں۔ جو لوگ بے گناہ معصوم لوگوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بناتے ہیں انہیں کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔‘‘

بریفنگ کے دوران صوبائی حکومت کے ترجمان انوارالحق کاکڑ نے بتایا کہ دہشت گردی سے نمٹنا صوبائی حکومت کا سب سے اہم چیلنج ہے، ’’قیام امن کے بغیر یہاں ترقی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ترقی مخالف عناصر پاک چین اقتصادی راہداری کی راہ میں ایک منظم سازش کےتحت رکاوٹیں حائل کرنےکی کوشش کر رہے ہیں۔ صوبے میں علیحدگی پسندوں کو حکومت کے خلاف بھڑکایا جا رہا ہے۔‘‘

انوارالحق کاکڑ نے بتایا کہ بلوچستان کے لوگ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں فورسز کے ساتھ بھر پور تعاون کر رہے ہیں۔

صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ قلات میں آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں سے سونا اور واکی ٹاکی سیٹ بھی برآمد ہوئے ہیں اور ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں میں کالعدم بی ایل اے کا اہم گوریلا کمانڈر غلام نبی بنگلزئی بھی شامل ہے، جو کہ حکومت کو انتہائی مطلوب تھا۔

قلات میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے سلسلے میں کالعدم یو بی اے کی جانب سے کوئی واضح موقف ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے جبکہ آزاد ذرائع سے ان حکومتی دعوؤں کی تصدیق بھی ناممکن ہے۔

دو روز قبل بلوچستان نیشنل موومنٹ نامی تنظیم نے دعویٰ کیا تھا کہ قلات اور قریبی علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے شہری آبادی پر فائرنگ کی ہے، جس سے جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ تاہم اس دعوے کی بھی تصدیق کرنا ناممکن ہے۔

دریں اثناء بلوچستان کے ضلع پنجگور میں آج پاک ایران سرحدی علاقے میں ایک گھر پر بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہے، جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت چھ افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔

فائرنگ کا ایک اور واقعہ سریاب روڑ پر بھی پیش آیا جس کے نتیجے میں پولیس کا ایک حوالدار ہلاک ہوا ہے۔ ان حملوں کی ذمہ داری اب تک کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔