1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بلوچستان: پانچ انتہاپسند گروپ کالعدم

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں سرگرم باغیانہ سوچ اور عسکریت پسندی کی جانب مائل پانچ علاقائی سیاسی تنظیموں کو مرکزی حکومت نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔

default

پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک

ان پانچ گروپوں پر پابندی کا اعلان وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ جن پانچ گروپوں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے، ان میں بلوچستان ریپبلک آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ، بلوچستان لبریشن یونائٹڈ فرنٹ، بلوچ دفاعی تنظیم اور لشکر بلوچستان کے نام شامل ہیں۔

اس پابندی کی بنیادی وجہ حالیہ دنوں میں بلوچستان صوبے میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ ہے۔ اس ٹارگٹ کلنگ میں خاص طور پر غیر بلوچی افراد نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔

وزیر داخلہ رحمان ملک کے مطابق جن گروپوں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان کے تمام اثاثوں کو ضبط کر لیا جائے گا۔ ان تنظیموں کو ایک طرح سے پابندی کے بعد پوری طرح تحلیل کر دینا مقصود ہے۔ ان کے تمام عہدے داران کے عہدے بھی پابندی کے بعد ختم ہو گئے ہیں۔ اس طرح ان کے بینکوں میں موجود مالی اثاثوں کو بھی بحق سرکار ضبط کر لیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ نے ان گروپوں پر پابندی کا اعلان بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں کیا۔ رحمان ملک کا اس سلسلے میں یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچستان میں سرگرم وہ تمام گروپس جن کے ناموں میں لشکر، لبریشن اور ملٹری کے الفاظ شامل ہیں وہ بھی اگلے دنوں میں کالعدم قرار دے دئے جائیں گے۔

Unruhen in Pakistanischen Grenzgebieten

صوبہ بلوچستان میں حالیہ دنوں میں دہشت گردانہ کارراوئیوں کی وجہ سے سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے

بلوچستان میں حکومت مخالف تحریکیں بارہا شروع ہو چکی ہیں لیکن موجودہ جاری مزاحمتی تحریک کی ابتداء سن 2004 ء میں ہوئی تھی۔ اب تک سینکڑوں افراد دہشت گردانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ان میں معروف بلوچ سیاسی شخصیت نواب اکبر بگٹی بھی شامل ہیں، جو مشرف دور حکومت میں ایک سرکاری آپریشن میں ہلاک ہوئے تھے۔

بلوچستاں کے بے شمار لوگ گھر بار چھوڑ کر دوسرے مقامات کی جانب منتقل ہو گئے ہیں۔ بلوچ علاقوں میں انتشار اور پریشانی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اس باعث بلوچ سرگرم انتہاپسند اب ان افراد کو نشانہ بنا رہے ہیں جو بلوچ نہیں ہیں۔ ان میں براہوی اور پٹھان پھر بھی قدرے بچ جاتے ہیں لیکن پنجابی اور دوسرے لوگ جو برسوں پہلے کوئٹہ یا دوسرے شہروں میں آباد ہوئے تھے وہ بے سکونی کا شکار بتائے جاتے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM