بلوچستان میں پہلی بار متوسط گھرانے کا وزیر اعلیٰ | حالات حاضرہ | DW | 09.06.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بلوچستان میں پہلی بار متوسط گھرانے کا وزیر اعلیٰ

پاکستان کے شورش زدہ جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں پہلی بار ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی شخصیت عبد المالک بلوچ کو وزیر اعلیٰ منتخب کر لیا گیا ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبد المالک نے بلوچ علیحدگی پسندوں کو مذاکرات کی جانب مائل کرنے کے لیے سازگار ماحول کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ آج کوئٹہ میں صوبائی اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں وزیر اعلیٰ کا بلامقابلہ انتخاب ممکن ہوا۔ ان کے مقابلے میں کسی اور رکن نے کاغذات نامزدگی جمع ہی نہیں کرائے تھے۔

یاد رہے کہ صوبائی اسمبلی میں وزیر اعظم نواز شریف کی مسلم لیگ ن سب سے بڑی جماعت، محمود خان اچکزئی کی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی دوسرے اور نیشنل پارٹی تیسرے نمبر پر ہے۔ عبد المالک کی نامزدگی کے حوالے سے ان تینوں جماعتوں میں اتفاق رائے تھا اور آج کے اجلاس میں ایوان کی کسی دوسری جماعت نے بھی ان کی مخالفت نہیں کی۔

Pakistan Innenminister Rehman Malik

سابق وزیر داخلہ رحمان ملک

55 سالہ عبدالمالک کا تعلق ضلع تربت کے ایک عام گھرانے سے ہے اور وہ صوبے کے سابقہ اعلیٰ حکام کے برعکس سابقہ خود مختار بلوچ ریاستوں کے کسی نواب گھرانے سے تعلق نہیں رکھتے۔ وہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے منسلک رہے اور 80ء کی دہائی سے عملی سیاست میں سرگرم ہیں۔ واضح رہے کہ علیحدگی پسند بلوچ قوتیں صوبے میں ان سیاسی جماعتوں سے بھی منحرف ہیں، جو انتخابات میں حصہ لیتی ہیں۔ علیحدگی پسندوں کی سیاسی قیادت بیرون ملک ہے، جن سے بات چیت کے حوالے سے وزیر اعلیٰ عبد المالک نے کوئٹہ کے ایوان میں اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ بلوچستان کا صوبہ قدرتی وسائل کے حوالے سے پاکستان کا امیر ترین صوبہ ہے مگر یہاں غربت عام ہے اور اسے موجودہ حالات میں ملک کا پسماندہ ترین گوشہ ٹھہرایا جاسکتا ہے۔

سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کے بقول یہاں غیر ملکی قوتیں سرگرم ہیں جو علیحدگی پسندوں کو استعمال کرتے ہوئے ملک کو غیر مستحکم کر رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں البتہ یہ کہتی ہیں کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بالخصوص فوج براہ راست طور پر بلوچستان کے امور دیکھتی ہے اور سیاسی مسائل کا عسکری حل نکالنے کی کوششوں نے معاملات کو خراب کر کے رکھ دیا ہے۔ علیحدگی پسندوں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسن کے ذرائع کے مطابق صوبے سے سینکڑوں نوجوانوں کو انٹیلی جنس اہلکار اغوا کرچکے ہیں اور کئی کی تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں۔

اس صوبے میں قدرتی وسائل کی موجودگی، گوادر بندرگاہ اور صوبے کی نیم قبائلی علاقے اور افغانستان سے ملحق سرحد اسے اسٹریٹیجک نکتہء نگاہ سے خاصا اہم بنا دیتے ہیں۔ صوبے میں مخدوش امن و امان کی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں جگہ جگہ نیم فوجی دستوں کی موجودگی کسی جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کرتی ہیں۔ علیحدگی پسند قوتیں دور دراز کے علاقوں میں تیل و گیس کی تلاش پر مامور غیر مقامی افراد کو نشانہ بنانے سے نہیں چوکتے اور کچھ واقعات تو ایسے بھی رپورٹ کیے گئے کہ لوگوں کو محض ’پنجابی‘ ہونے پر قتل کر دیا گیا ہو۔

نو منتخب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبد المالک کا کہنا ہےکہ مسخ شدہ لاشوں کا ملنا، لاپتہ افراد، فرقہ وارانہ کشیدگی اور اغوا برائے تاوان جیسے مسائل کا حل اُن کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے بقول وہ صوبے میں کرپشن کا خاتمہ کریں گے اور صوبے کے تمام مسائل کو وفاقی حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر حل کریں گے۔

رپورٹ شادی خان سیف

ادارت امتیاز احمد