بلوچستان میں پر تشدد کارروائیاں، سات افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 29.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بلوچستان میں پر تشدد کارروائیاں، سات افراد ہلاک

پاکستانی پولیس حکام نے بتایا ہے کہ صوبہ بلوچستان میں ہونے والے دو مختلف پرتشدد واقعات میں ایک خاتون سمیت کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاکستانی پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اقوام متحدہ کے دو مقامی ملازمین جبکہ چار شیعہ مسلمان شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شمال مغربی صوبے میں ہونے والے اس فرقہ ورانہ واقعے کے بعد سینکڑوں افراد احتجاجی مظاہرے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین کی فائرنگ میں ایک پولیس اہلکار بھی مارا گیا ہے۔

پولیس عہدیدار جمیل کاکڑ کا خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے دارالحکومت کوئٹہ کے سپینی روڈ پر اُس وین کو نشانہ بنایا، جس پر اقلیتی مسلم کمیونٹی کے افراد سوار تھے۔ کاکڑ نے مزید کہا، ’’ایک عورت سمیت چار افراد مارے گئے ہیں جبکہ سات دیگر زخمی ہیں۔‘‘

Pakistan Quetta Anschlag auf Bus Oktober 2011

مقامی پولیس اسٹیشن کے سربراہ امیر محمد دستی نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ بعد ازاں ایک پولیس اہلکار کو کوئٹہ کے مضافات میں واقع ہزارہ ٹاؤں میں ہلاک کر دیا گیا۔ دستی کے مطابق پولیس پر اس وقت فائرنگ کی گئی، جب چند اہلکاروں نے مظاہرین کی طرف سے بند کی گئی ایک شاہراہ کو کھولنے کی کوشش کی۔

اسی طرح درجنوں شیعہ مظاہرین نے کوئٹہ کے مرکزی میزان چوک اور صوبائی پولیس سربراہ کے دفتر کے سامنے بھی احتجاج کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مقامی ہسپتال میں ایک موٹر سائیکل کو بھی نذرآتش کر دیا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے فرقہ ورانہ کارروائیوں کی روک تھام میں ناکامی پر حکومت پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پولیس آفیسر شاکراللہ نے بتایا ہے کہ ایک دوسرے واقعے میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت(FAO) کے لیےکام کرنے والے دو مقامی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ کوئٹہ سے چالیس کلومیٹر دوری پر واقع جنوبی شہر مستونگ میں پیش آیا۔

شاکر اللہ کا کہنا تھا، ’’مسلح افراد کی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں ڈرائیور اور ایف اے او کے اسٹاف کا ایک رکن ہلاک ہوا جبکہ ایک دوسرا ملازم زخمی ہے۔‘‘

ابھی تک کسی بھی گروپ نے ان دونوں واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد / خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق