1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بلوچستان میں ریل گاڑی پر بم حملہ، تین مسافر ہلاک

پاکستانی صوبہ بلوچستان میں ایک مسافر ریل گاڑی پر کیے گئے ایک بم حملے میں حکام کے مطابق آج اتوار یکم نومبر کے روز کم از کم تین مسافر ہلاک اور بارہ دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ ریل گاڑی راولپنڈی جا رہی تھی۔

جنوب مغربی پاکستان میں صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان ریلوے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ یہ بم ریلوے ٹریک پر نصب کیا گیا تھا۔

ریلوے کے ترجمان مقبول احمد کے بقول یہ مسافر ریل گاڑی راولپنڈی کی طرف سفر پر تھی کہ پٹری پر نصب کیے گئے ایک بم کی زد میں گئی۔ یہ دھماکا آج اتوار کو علی الصبح ہوا۔ مقبول احمد نے کہا، ’’یہ ایک طاقتور بم دھماکا تھا، جس نے ریل گاڑی کے پہلے ڈبے کے علاوہ ریلوے ٹریک کو بھی کافی نقصان پہنچایا۔‘‘

بتایا گیا ہے کہ ریلوے کے ماہرین اور کارکنوں نے دھماکے کے چند ہی گھنٹے بعد ٹریک کی مرمت کر دی اور قبل از دوپہر تک اس ٹریک پر ریل گاڑیوں کی آمد و رفت بحال ہو چکی تھی۔ بم اس وقت پھٹا جب ریل گاڑی مستونگ ضلع کے مقام دشت کے قریب پہنچی تھی۔

ابھی تک کسی نے اس دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی تاہم ماضی میں صوبہ بلوچستان میں مختلف مسلح علیحدگی پسند گروپ اس طرح کے بم حملے کرتے رہے ہیں۔

پاکستان میں وفاقی حکومت کو صوبہ بلوچستان میں گزشتہ ایک عشرے سے بھی زائد عرصے سے بلوچ نسل کے علیحدگی پسند گروپوں کی طرف سے ایسی مسلح بغاوت کا سامنا ہے، جو خونریز تو ہے لیکن مسلسل انتہائی خونریز نہیں رہی۔ بلوچ قوم پسندوں کے یہ مسلح گروپ قدرتی وسائل سے مالا مال اس صوبے کے لیے یا تو مکمل آزادی یا پھر زیادہ خود مختاری کے مطالبے کرتے ہیں۔

DW.COM