1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بلوچستان میں خونریز حملہ، چودہ سکیورٹی اہلکار ہلاک

پاکستان کے جنوب مغربی علاقے میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے نیم فوجی فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ایک میجر سمیت چودہ اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔

default

یہ واقعہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مشرق میں واقع موسیٰ خیل نامی علاقے میں پیش آیا۔ یہ دیہی علاقہ کوئٹہ سے قریب چار سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے اس واقعے کی ذمہ داری بلوچ علیٰحدگی پسندوں پر عائد کی جا رہی ہے۔ بلوچ قوم پرست صوبے میں قدرتی وسائل پر زیادہ اختیار حتیٰ کہ علیٰحدگی کا نعرہ بھی لگاتے ہیں۔ ان قوم پرستوں کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی خفیہ ادارے نے متعدد سرکردہ بلوچ شخصیات کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے رکھا ہے اور ان کے اہل خانہ کو اس سلسلے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

پاکستانی صوبہ بلوچستان میں حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد میں 2006ء کے بعد سے تیزی دیکھنے میں آرہی ہے، جب سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں صوبے کے سابق گورنر اور ایک اہم قبیلے کے سربراہ اکبر بگٹی کو ایک فوجی آپریشن میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ متعدد ایف سی اہلکار زخمی بھی ہیں۔

Karte Baluchistan englisch Flash-Galerie

بتایا جا رہا ہے کہ یہ اہلکار کوئلے کی ایک کان کے پاس سلامتی کی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ جائے واردات قدرتی گیس کے ذخائر سے مالا مال علاقے سوئی سے زیادہ دور نہیں ہے۔ سوئی میں ہفتے کے روز اسی طرز کی ایک کارروائی میں دو سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔

پاکستان کی سیاسی قیادت نے بلوچ علیٰحدگی پسندوں کو منانے کے لیے حال ہی میں متعدد اقدامات کا اعلان بھی کیا تھا۔ ملکی وزیر داخلہ رحمان ملک بھارت پر ان علیٰحدگی پسندوں کی پشت پناہی کا الزام بھی عائد کر چکے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM