1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بلوچستان میں حکومتی رِٹ ہر حال میں، رحمٰن ملک

پاکستانی وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ بلوچستان میں سوات اور مالا کنڈ جیسا آپریشن نہیں ہوگا لیکن اگر وہاں کسی نے حکومت کی رٹ کو چیلنج کیا تو حکومت ایکشن ضرور لے گی۔

default

’بلوچ عوام سازشوں کو ناکام بنائیں‘

رحمٰن ملک کے بقول افغانستان پر واضح کر دیا گیا ہے کہ پڑوسی ممالک سے اسلحہ کی اسمگلنگ اور طالبان کی نقل و حرکت بند ہونی چاہئے جبکہ بلوچستان میں سرگرم پانچ انتہا پسند تنظیموں پر بھی پابندی لگائی جا چکی ہے۔

Pakistan Demonstration Belutschistan

رحمٰن ملک کے بقول نام نہاد رہنما بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں

کراچی میں ڈوئچے ویلے کو دئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں پاکستانی وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ بلوچستان کے عوام سے کہتے ہیں کہ وہ پاکستان توڑنے والوں کی سازش کو ناکام بنائیں۔ ’’بعض نام نہاد رہنما بڑی بڑی رقوم کے عوض بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں جبکہ یہی برائے نام رہنما خود بیرون ملک آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ ان کا حالیہ دورہء بلوچستان کو پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈر نہیں بلکہ بعض نام نہاد رہنما اپنے سیاسی بیانات کے ذریعے ہدف تنقید بنا رہے ہیں حالانکہ وہ صرف اور صرف ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔

رحمٰن ملک نے کہا کہ ان رہنماﺅں سے وہ یہ پوچھتے ہیں کہ جب نوجوانوں کو ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک کیا جاتا ہے تو اس کے خلاف کوئی آواز کیوں نہیں اٹھاتا۔ لہٰذا ایسے واقعات کی روک تھام بحیثیت وفاقی وزیر داخلہ ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت آنے پر وہ یہ حقائق ضرور سامنے لائیں گے کہ بلوچستان میں بد امنی کے لئے وسائل کون فراہم کر رہا ہے۔

NO FLASH Anschlag Quetta Pakistan

بلوچستان میں امن عامہ کی صورت حال حکومت کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے

رحمٰن ملک نے کہا کہ بلوچستان کے بارے میں تمام معلومات خفیہ اداروں کی فراہم کردہ ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کو دیکھتے ہوئے ان کو یقین ہے کہ وہ وقت ضرور آئے گا جب گمراہ اور ملک دشمن عناصر کے خلاف سخت آپریشن کے لئے خود عوام ہی آواز اٹھائیں گے۔

فرنٹیئر کور کو دئے گئے اختیارات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ فورس صوبائی حکومت کے زیر کمان تو نہیں ہو گی تاہم اسے کہاں استعمال کرنا ہے، یہ اختیار انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو دے دیا ہے۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس