1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بلوچستان میں بس پر مسلح گروہ کا حملہ 26 افراد ہلاک

پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں دہشت گردی کی ایک واردات میں کم از کم 26 شیعہ زائرین کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔

default

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شیعہ زائرین سے بھری ایک بس کو مستونگ نامی علاقے میں نشانہ بنایا گیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کوئٹہ سے 50 کلومیٹر جنوب میں واقع اس علاقے میں مسلح حملہ آوروں نے بس میں سوار تمام مسافروں کو بس سے نیچے اتار کر قطار میں کھڑا کیا اور پھر اُن پر فائرنگ شروع کر دی۔

بس کے ڈرائیور خوشحال خان کے بقول کلاشنکوفوں اور راکٹ لانچروں سے لیس آٹھ تا دس حملہ آوروں نے واردات میں حصہ لیا۔ ان کے بقول بس میں 45 مسافر سوار تھے.جو کوئٹہ سے ایران کے شہر تفتان جا رہے تھے۔ ان میں سے ڈرائیور سمیت بقیہ دیگر جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب رہے۔ خوشحال خان کے مطابق جائے واردات پر دور دور تک سکیورٹی اہلکاروں کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔

مستونگ کے ڈپٹی کمشنر سعید عمرانی کے بقول بعض زخمیوں کی حالت بھی نازک ہے۔ کوئٹہ کے ایک پولیس عہدیدار حامد شکیل کے مطابق مارے جانے والے افراد کی لاشیں لینے کے لیے جانے والی گاڑی کو بھی فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا، جس کے سبب گاڑی میں سوار تین افراد موقع پر مارے گئے جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا۔

Unruhen in Pakistanischen Grenzgebieten

بلوچستان میں طویل عرصے سے قوم پرست بلوچوں کے گروہ اسلام آباد حکومت کے خلاف سرگرم عمل ہیں تاہم اس قسم کے حملے میں فرقہ ورانہ عناصر کے ملوث ہونے کی قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ہسپتالوں میں ہنگامی حالت کا نفاذ کر کے زخمیوں کا علاج معالجہ کیا جا رہا ہے۔

اس واقعے سے قبل کوئٹہ میں گزشتہ برس چار ستمبر کو شیعہ زائرین کی ایک ریلی پر خود کش حملہ کیا گیا، جس میں کم از کم 57 افراد مارے گئے تھے۔ اسی طرح سات ستمبر کو کوئٹہ میں ایک خودکش حملے میں 27 افراد مارے گئے، جس کا بظاہر ہدف فرنٹیئر کور کے نائب سربراہ تھے، جنہوں نے کوئٹہ کے نواح میں القاعدہ سے منسلک ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا تھا۔ فرخ شہزاد نامی یہ عہدیدار خود تو حملے میں محفوظ رہے تاہم اُن کی بیوی حملے میں ماری گئیں۔

پاکستان میں عسکریت پسندوں کے حملوں کی زیادہ وارداتیں شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں دیکھنے میں آتی ہیں۔ منگل کو نیم قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں ایک چیک پوسٹ پر کیے گئے ایسے ہی ایک حملے میں ایک فوجی اہلکار اور 20 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM