1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بلوچستان مزید نظر انداز نہیں ہو گا، جنرل قمر باجوہ

بلوچستان کا صحرائی شہر خضدار انتہائی پسماندہ قرار دیا جاتا ہے جبکہ اس کا چھوٹا سا ہوائی اڈہ تجارتی پروازوں کے لیے بھی استعمال نہیں ہوتا ہے۔ تاہم سی پیک کی بدولت اس شہر کا مستقبل تابناک قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان صوبہ بلوچستان کے پسماندہ شہر خضدار کا حالیہ دورہ کرنے والے کچھ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے کہا ہے کہ پاک چائنہ اقتصادی راہداری (سی پیک) کی بدولت اس شہر کا مستقبل شاندار ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے نئے فوجی سربراہ جنرل قمر باجوہ بھی ان متعدد شخصیات میں شامل ہیں، جنہوں نے حالیہ دنوں میں خضدار کا دورہ کیا۔

سی پیک منصوبے کی کامیابی کے لیے پر عزم ہیں، جنرل باجوہ

گوادر: پاکستان، چین تجارتی راستے کا باقاعدہ آغاز ہو گیا

کیا سی پیک، پاکستان میں نئے تنازعات کھڑے کر سکتا ہے؟

چار لاکھ کی آبادی والا شہر خضدار سی پیک سے بہت زیادہ فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ ستاون بلین ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کے تحت جہاں مغربی چین اور پاکستان کے جنوب مغربی ساحلی علاقوں کو جوڑا جا رہا ہے، وہیں توانائی کے نئے منصوبے اور دیگر ترقیاتی منصوبے بھی شروع کیے جا چکے ہیں۔ تاہم پاکستانی عوامی حلقوں میں یہ سوال ابھی تک اٹھایا جا رہا ہے کہ ان منصوبہ جات سے غریب عوام کو کیا فائدہ ہو گا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سی پیک کی بدولت زیادہ فائدہ چینی بینکوں اور کمپنیوں کو ہی ہو گا۔

تاہم پاکستانی حکام نے خضدار میں منعقدہ ایک سیمینار میں اس پسماندہ صوبے کے طالب علموں، سرکاری ملازمین اور شہریوں کو یقین دلایا ہے کہ سی پیک ان کے لیے خوشحالی اور ترقی کا نیا دور لائے گا۔ خضدار میں واقع بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں ایک اجتماع سے مخاطب ہوتے ہوئے جنرل قمر باجوہ نے کہا، ’’بدقسمتی سے ماضی میں بلوچستان نظر انداز ہوا، جس کی متعدد وجوہات رہیں۔ لیکن اب ایسا مزید نہیں ہو گا۔‘‘

گزشتہ برس جاری کردہ اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر (اے ای آر سی) کی ایک اسٹڈی کے مطابق سی پیک کی بدولت پاکستان میں سات لاکھ ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ دوسری طرف ایک چینی اخبار نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ اس منصوبے سے پاکستان میں دو ملین نئی ملازمتوں کے مواقع میسر آئیں گے۔ تاہم یہ سوال ابھی تک حل طلب ہے کہ ان میں سے کتنی ملازمتوں سے بلوچستان کے شہری فائدہ اٹھا سکیں گے۔

Pakistan | China und Pakistan starten ihre Handelsroute (picture-alliance/AA)

چار لاکھ کی آبادی والا شہر خضدار سی پیک سے بہت زیادہ فوائد حاصل کر سکتا ہے

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ اس سیمینار میں سوال جواب کے ایک سیشن میں ایک طالبہ نے سوال کیا کہ سی پیک سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان کو کتنا حصہ ملے گا اور اس کے لیے کیا فارمولا بنایا جائے گا۔ اس سیمینار میں متعدد طلبا اس بارے میں شک و شبے کا شکار نظر آئے کہ آیا یہ منصوبہ واقعی بلوچستان کی ترقی میں معاون ثابت ہو گا۔

اس سیمینار میں پاکستان کے جہاز رانی کے وزیر حاصل خان بزنجو نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’ہم یہ ضمانت چاہتے ہیں کہ سی پیک کے تحت بھی ہمارے ساتھ وہ نہ ہو، جو سن 1952 میں ہوا تھا۔ تب بلوچستان سے گیس دریافت ہوئی تھی لیکن اب سن دو ہزار سترہ آ گیا ہے لیکن خضدار میں ابھی تک گیس کی فراہمی ممکن نہیں بنائی جا سکی۔‘‘

ان تحفظات کے جواب میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ثنا اللہ زہری نے کہا کہ سی پیک کے تحت انتیس اسپیشل اکنامک ہاٹ اسپاٹس بنائے جا رہے ہیں اور خضدار ان میں سے ایک ہے۔ اس لیے اس منصوبے سے خضدار کے عوام کو بہت زیادہ فائدہ ہو گا۔ اگرچہ خضدار نہ گوادر پورٹ سے ملحق ہے اور نہ ہی اس کی سرحد صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے متصل ہے تاہم صوبے کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہونے کی وجہ سے اور جغرافیائی لحاظ سے یہ کراچی اور کوئٹہ کے مابین ایک انتہائی اہم اقتصادی مرکز بن سکتا ہے۔

DW.COM