1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بلوچستان فوجی آپریشن

پاکستان کا صوبہ بلو چستان، ماضی میں کئی سیاسی انتشار دیکھ چکا ہے۔ وہاں کی قوم پرست قوتیں خاصی متحرک دکھائی دیتی ہیں۔

ایُوب خان اور پھر ذُوالفقار علی بھٹو کے دور میں وہاں فوجی آپریشن ہوئے۔ صدر مشرف اورمسلم لیگ قاف کی حکومت کےدِنوں میں بھی وہاں فوجی آپریشن جاری رہا۔ اِس بیچ نواب اکبر بُگٹی حکومتی کاروائی کا نشانہ بنتے ہُوئے ہلاک کر دیئے گئے۔ اٹھارہ فروری کے عام الیکشن کے بعد سیاسی حکومت اعتماد سازی کے اقدامات اٹھا رہی ہے تا کہ سیاسی کوششوں سے صوبے کے اندر انتشار کی کیفیت کو ختم کیا جائے۔ قوم پرست لیڈر اختر مینگل کی رہائی اِس مناسبت سے خاصی اہم ہے۔ اختر مینگل نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان ابھی بھی فوجی آپریشن جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کے بیانات اپنی جگہ مگر قوم پرست لیڈروں کے بیانات اختر مینگل کی تائید کر رہے ہیں کہ مختلف مقامات پرابھی تک فوجی آپریشن جاری ہے۔ اِس صورت حال کے تناظر میں جب صوبے کے صدر مقام کوئٹہ میں مقیم ممتاز تجزیہ نگار شہزادہ ذوالفقار سے بات ہوئی:

Audios and videos on the topic