1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بلقان: یورپ میں ممکنہ سکیورٹی خطرے کا گڑھ

یورپی سکیورٹی ماہرین اور مبصرین کا خیال ہے کہ بلقان کا علاقہ یورپ میں سکیورٹی کے حوالے سے ایک ڈینجر زون بنتا جا رہا ہے۔ چھوٹا بڑااسلحہ اور دوسرے ہتھیار بڑی آسانی سے اس علاقے میں دستیاب ہو جاتے ہیں۔

default

براعظم یورپ کے اندر سلامتی امور کے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یورپی ملکوں میں اگلا دہشت گردی کا منصوبہ ممبئی طرز پر ہو سکتا ہے اور اس کی وجہ بلقان کا علاقہ ہے جہاں سے انتہاپسند بڑی خاموشی اور آسانی سے اسلحہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس خطرے کا احساس کرتے ہوئے مغربی ملکوں کی حکومتوں اور خفیہ اداروں نے متعلقہ حلقوں کو انتباہی پیغامات کے ساتھ چوکس رہنے کا بھی پیغام پہنچا دیا ہے۔

سکیورٹی کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ کے اندر گن کنٹرول میں یقینی طور پر سختی لائی گئی ہے۔ مسلمان انتہاپسند گروپ کی کڑی نگرانی بھی بدستور جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف ملکوں کی پولیس نے بعض منظم جرائم پیشہ گروہوں کے اندر تک رسائی حاصل کر کے ان کو تتربتر کردیا ہے۔ اس کے باوجود ماہرین کے نزدیک ایک راستہ ابھی کھلا ہے اور وہ بلقان کا خطہ ہے۔

Serbien Kriegsverbrechen Vukovar Prozess

سابقہ یوگو سلاویہ کے فوجی ایک زخمی شہری کے ہمراہ بلقان جنگ کے دوران

نوے کی دہائی میں سلووانیہ اور کروشیا کے اسلحے کے ایکسپورٹروں نے غیر قانونی طور پر بے شمار اسلحہ مغربی یورپ میں موجود منظم جرائم کے گروہوں، باسک باغیوں اور شمالی آئر لینڈ کی پیرا ملٹری فوج کو فروخت کیا تھا۔

بوسنیا کے مرکزی پارلیمانی کمیشن برائے سالمیت اور دفاع کے رکن آدم ہسکچ کا کہنا ہے کہ بوسنیا میں دہشت گردوں کو اسلحہ حاصل کرنا ایک معمولی سی بات ہے۔ ان کے مطابق سابقہ یوگو سلاویہ کی فوج کا بے شمار اسلحہ اور ہتھیار جا بجا موجود ہے اور یہ ابھی تک اکھٹا نہیں کیا جا سکا ہے۔ بلغراد کے ایک اسلحے کے سابق سوداگر کا کہنا ہے کہ سن 1991 سے 1999 تک یہ سارا علاقہ وار زون میں تھا اور اس دوران ہتھیاروں کے حصول پر کسی قسم کا بھی کنٹرول موجود نہیں تھا۔ ایسے اشارے بھی سامنے آئے ہیں کہ کئی لوگوں کے پاس بارودی سرنگوں کا ذخیرہ ہونے کے ساتھ گولہ بارود بھی موجود ہے۔ سکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ لوگ کسی مناسب وقت کے منتظر ہیں اور وقت آنے پراس کو فائدے کے ساتھ بیچ دیں گے۔

اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم کے ادارے کی ایک رپورٹ سن 2008 میں شائع ہوئی تھی وہ بھی بلقان کو گینگسٹروں کی جنت قرار دیتی ہے۔ سکیورٹی معاملات کے معتبر جریدے جین کے مبصر وِل ہارٹلی کے مطابق بلقان کے کئی گروہ اب بھی انتہاپسندوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے خیال میں بلقان خطے سے اسلحے کی منظم اسمگلنگ کا خاتمہ کسی طور ممکن نہیں ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: کشور مصطفیٰ

.

DW.COM

ویب لنکس