1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بلقان کے خطے سے مہاجرین کی اسمگلنگ کیسے ہو رہی ہے؟

ہزارہا مہاجرین کے لیے ترکی سے یونان کے ذریعے یورپ پہنچنے کا راستہ تقریباﹰ بند ہو چکا ہے۔ اس لیے اب یہ تارکین وطن اسمگلروں کو بھاری رقوم ادا کر کے بلغاریہ کو بہ طور متبادل راستہ استعمال کر رہے ہیں۔

مہاجرین کی اسمگلنگ میں مصروف آصف کا کہنا ہے، ’’میں نے ایک بار ایک ہی دن میں 24 سو یورو کمائے۔ اب آمدن اوسطاﹰ چھ سو سے نو سو یورو تک بن جاتی ہے۔‘‘

آصف بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں واقع ایک مسجد کے باغ میں، مہاجرین کے خان دانوں، جن کے پاس کپڑوں سے بھرے کمر بند بستے ہیں، کو اپنے ساتھ لے جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والے اس 25 سالہ اسمگلر نے گزشتہ برس انسانوں کو بلغاریہ سے سربیا لے جانے کا دھندا شروع کیا تھا۔

بلغاریہ سے مہاجرین کی سربیا اور پھر مغربی یورپ منتقلی مستقل ہوتی رہی ہے، مگر حالیہ کچھ ماہ میں یہ کاروبار اپنے عروج پر ہے۔ اس کی وجہ اچھا موسم ہے، جس کے نتیجے میں بلغاریہ اور سربیا کے درمیان واقع جنگلاتی علاقہ عبور کرنا قدرے آسان ہو چکا ہے۔

Flüchtlinge an der Grenze zu Kroatien und Serbien

گزشتہ برس بلقان راستے سے لاکھوں افراد مغربی اور شمالی یورپ پہنچے

اسی لیے ایک طرف تو یورپی شہری اور سیاح بحیرہ اسود پر واقع بلغاریہ کے ساحلوں پر دھوپ سینکتے دکھائی دیتے ہیں، تو دوسری جانب آصف مہاجرین کو بلغاریہ سے باہر نکال رہا ہے۔

اچھی طرح اطالوی زبان میں ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے آصف کا کہنا تھا، ’’میں یہاں پانچ مہینے ’کام‘ کرنے کے بعد اٹلی واپس چلا جاؤں گا۔ میں اٹلی سے زیادہ دیر تک دور اس لیے نہیں رہ سکتا کیوں کہ وہاں سیاسی پناہ سے متعلق میری اپنی درخواست بھی جمع ہے۔

ناقابل سکونت ملک

آصف کو اس ’کام‘ کے لیے اطالوی شہر میلان میں بھرتی کیا گیا تھا۔ اس ’کام‘ میں ملوث اسمگلروں کو کوئی ایسا شخص درکار تھا، جو دری زبان جانتا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغان باشندوں کی بڑی تعداد ان دنوں بلغاریہ سے سربیا پہنچنے کی تگ و دو میں ہے۔ ان مہاجرین کو خوف ہے کہ وہ یورپ میں مہاجرین کے لیے ’ناقابل سکونت‘ سمجھے جانے والے ملک میں پھنس کر رہ جائیں گے۔ بلغاریہ میں مہاجرین سے متعلق قوانین انتہائی سخت ہیں، جب کہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے گروپ مہاجرین پر حملے بھی کرتے رہتے ہیں۔

تاہم بلغاریہ کے راستے مغربی یورپ تک پہنچنے کا روٹ سستا بھی ہے اور ان مہاجرین کی کوشش ہوتی ہے کہ ترکی سے بلغاریہ اور پھر بلقان کی ریاستیں عبور کر کے کسی طرح جرمنی یا فرانس پہنچ جائیں، جہاں انہیں روزگار بھی مل سکے اور بعد میں ان کے اہل خانہ بھی ان سے آن ملیں۔