1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بلقان سرحد کی بندش سے ہزاروں مہاجرین پریشان

مغربی بلقان ریاستوں کی طرف سے اپنی سرحدوں پر جانچ پڑتال کا عمل نافذ کر دینے پر ہزاروں مہاجرین پھنسے ہوئے ہیں، جب کہ سردی اپنے زوروں پر ہے۔

جمعے کے روز بلقان خطے میں مہاجرین کے لیے کام کرنے والی امدادی تنظیموں نے بتایا کہ سرحدوں پر کنٹرول کا عمل رائج کیے جانے کے بعد ہزاروں مہاجرین مغربی ممالک کی جانب اپنا سفر جاری رکھنے سے قاصر ہیں اور سخت سردی سے نبرد آزما ہیں۔

بلقان ریاستوں نے مہاجرین کے بہاؤ کو روکنے کے لیے ’فلٹرنگ‘ کا عمل شروع کیا ہے، جس کے تحت صرف انہیں افراد کو اپنے اپنے ممالک سے گزر کر مغربی یورپ کا رخ کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے، جن  کا تعلق مشرق وسطیٰ کے جنگ زدہ علاقوں یا افغانستان سے ہے، جب کہ باقی مہاجرین کو واپس بھیجا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق واپس بھیجے جانے والے افراد میں ایشیا اور افریقہ سے تعلق رکھنے والے مہاجرین ہیں۔

Balkan Flüchtlinge

بلقان ریاستوں کے اس اقدام کی وجہ سے ہزاروں مہاجرین پھنس کر رہ گئے ہیں

سرحدوں پر نئے قواعد و ضوابط کا اطلاق مقدونیہ، سلووینیہ اور دیگر بلقان ریاستوں نے کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین اور بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرین IOM کا کہنا ہے، اس اقدام کی وجہ سے سینکڑوں خاندان سرحدی کراسنگز پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین UNHCR ایڈریان ایڈورڈز کا جنیوا میں نیوز بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا،  ’’ان مقامات پر فوری امدادی سپلائی اور مہاجرین کے ٹھہرنے کی جگہوں کی گنجائش میں اضافے کی ضرورت ہے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ قریب چار ہزار مہاجرین روزانہ کی بنیاد پر یورپ پہنچ رہے ہیں، ’’ان (مہاجرین) کا یہ فیصلہ عجلت میں کیا گیا فیصلہ ہے، خانہ جنگی سے تنگ آ کر۔ انہیں اپنے گھر بار چھوڑنا پڑے۔ اپنے اہل خانہ سے بچھڑنا پڑا۔ یہ فیصلے موسموں سے تبدیل ہونے والے نہیں۔‘‘

بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرین IOM کے ترجمان جول میلمین کا کہنا ہے، ’’سلووینیہ نے اپنی سرحدوں پر سلیکشن کا نظام نافذ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے خطرہ پیدا ہو گیا ہےکہ مہاجرین اپنا راستہ تبدیل کر کے بلغاریہ کے ذریعے مغربی یورپ تک پہنچنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جب کہ وہاں صورت حال اور زیادہ خراب ہے۔‘‘