1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بلقان رياستوں ميں نئے اقدامات : مہاجرين کی مشکلات ميں مزيد اضافہ

بلقان ممالک کی جانب سے مہاجرين کا روٹ بلاک کر ديے جانے کی ممکنہ صورت ميں ہزارہا مزيد پناہ گزين يونان ميں پھنس جائيں گے۔ ان دنوں ايتھنز حکام اسی غور و فکر ميں پڑے ہيں کہ ان مہاجرين کے ليے رہائش کا بندوبست کيسے کيا جائے۔

يونان ميں پناہ گزينوں سے متعلق امور کے نگران وزير يوآنِس مُوزالاس نے ملکی ٹيلی وژن چينل ’ميگا‘ پر بدھ  10 فروری کی شب گفتگو کرتے ہوئے بتايا کہ يونان، سرحد کی بندش کے حوالے سے مقدونيا کی جانب سے ’يکطرفہ اقدام‘ کی توقع کر رہا ہے۔ ايک روز قبل انہوں نے کہا تھا کہ بلقان ممالک ميں بارڈرز بلاک کر ديے جانے کی ممکنہ صورت ميں ہزاروں پناہ گزين يورپی يونين کے جنوب مشرقی حصے ميں پھنس جائيں گے۔

مشرق وسطیٰ کے شورش زدہ ملکوں کے علاوہ پاکستان، افغانستان اور کئی شمالی افريقی ممالک سے تقريباً ايک ملين پناہ گزين گزشتہ برس بلقان ملکوں سے گزرتے ہوئے مغربی يورپ پہنچے تھے۔ يہ پناہ گزين ترکی سے براستہ بحيرہ ايجيئن يونان پہنچے اور پھر وہاں سے مقدونیا، سربيا، ہنگری، کروشيا اور سلووينيا جيسی بلقان رياستوں سے گزرتے ہوئے آسٹريا جرمنی اور ديگر امير مغربی يورپی ممالک پہنچے تھے۔

بلقان ممالک ہی کے اصرار پر گزشتہ مہينے آسٹريا نے پناہ گزينوں کی حد مقرر کرنے کا اعلان کيا، جس کے فوری بعد کئی بلقان رياستوں نے صرف شامی، افغانی اور عراقی پناہ گزينوں کو آگے بڑھنے کی اجازت دی جبکہ ديگر ملکوں کے تارکين وطن کو روک ليا گيا۔

مقدونيہ کی سرحد پر باڑ بڑھانے کا کام جاری

مقدونيہ کی سرحد پر باڑ بڑھانے کا کام جاری

منگل کے روز مقدونيا نے اپنی جنوبی سرحد پر باڑ لگانے کے کام ميں مزيد توسيع کر دی جبکہ بدھ سے حکام نے ان مہاجرين کے ليے اضافی کيمپ لگانے شروع کر ديے، جنہيں آگے کے ملک واپس بھيج رہے ہيں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجرين UNHCR کے مطابق سربيا ميں مہاجرين کے ليے قائم مراکز ہنگامی بنيادوں پر رہائش گاہ فراہم کرنے کے ليے ہيں، نہ کہ مستقل رہائش کے ليے۔ سربين وزير خارجہ ايوتزہ ڈاچچ کے مطابق اگر ديگر بلقان ملکوں نے اپنی سرحد بند کرنے کا فيصلہ کيا، تو ان کا ملک بھی ايسا ہی کرے گا۔

اٹھائيس رکنی يورپی يونين نے بلقان ممالک سے گزرنے والے روٹ پر موجود ملکوں کو اس ضمن ميں يکطرفہ اقدامات کرنے سے خبردار کيا ہے۔ بدھ کی شب يورپی کميشن کی جانب سے کہا گيا ہے کہ اس سے مہاجرين کے بحران کے دباؤ کو کم کرنے کے ليے اٹھائے جانے والے اقدامات بے اثر ہو جائيں گے۔

دريں اثناء ترکی کی درخواست پر بدھ 10 فروری کو مغربی دفاعی اتحاد نيٹو کی رکن رياستوں کے وزرائے دفاع کے اجلاس ميں ممکنہ اشتراک کا جائزہ بھی ليا گيا۔ نيٹو کے سيکرٹری جنرل ژينس اشٹولٹنبرگ نے کہا کہ درخواست کا سنجيدگی سے جائزہ ليا جائے گا۔ جرمن وزير دفاع ارسلا فان ڈيئر لائن نے انسانوں کی سمندری راستوں سے اسمگلنگ روکنے کے ليے انقرہ حکومت کی نيٹو کی جانب سے سمندروں کی نگرانی بڑھانے کی درخواست کی حمايت کی ہے۔

ملتے جلتے مندرجات