بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی عوام کی پُرجوش شرکت | حالات حاضرہ | DW | 19.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی عوام کی پُرجوش شرکت

پاکستان کے چھبیس اضلاع میں مقامی حکومتوں کے نمائندوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ پنجاب کے بارہ اور سندھ کے چودہ اضلاع میں پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے جبکہ کچھ انتخابی نتائج آنا بھی شروع ہو گئے ہیں۔

جمعرات کے روز پاکستان کے صوبہ پنجاب میں خانیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، میانوالی، ساہیوال، چنیوٹ، شیخوپورہ، سرگودھا، حافظ آباد، اٹک، جہلم ، گوجرانوالہ اور منڈی بہاؤالدین کے اضلاع میں ووٹ ڈالے گئے۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے امیدواروں کے ساتھ ساتھ آزاد امیدواروں نے بھی بہت بڑی تعداد میں ان انتخابات میں حصہ لیا۔ انتخابی جائزوں کے حوالے سے ملنے والی رپورٹوں اورکئی تجزیہ نگاروں کی رائے اور ابتدائی نتائج کے مطابق پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کا پلہ بھاری دکھائی دے رہا ہے۔

اُدھر سندھ میں حیدرآباد، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، مٹیاری، دادو، جامشورو، بدین، ٹھٹھہ، سجاول، شہید بینظیر آباد، نوشہرو فیروز، میر پور خاص، عمر کوٹ اور تھرپارکر میں بھی اپنے مقامی نمائندوں کے انتخاب کے لیے انتخابی عمل میں حصہ لیا۔ سندھ کے ضلع سانگڑھ میں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے انتخابی عمل ملتوی کر دیا گیا تھا۔

مقامی حکومتوں کے انتخابات کے موقع پر دونوں صوبوں میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔ پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری کی تعیناتی کے علاوہ فوج سے بھی مدد حاصل کی گئی تھی۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ سندھ میں پیپلز پارٹی کو لیاقت جتوئی، ارباب غلام رحیم، ذوالفقار مرزا اور ان جیسے دیگر مخالفین کی طرف سے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر بھی توقع یہی ظاہر کی جا رہی ہے کہ پیپلز پارٹی یہاں سے سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے والی پارٹی کے طور پر سامنے آئے گی۔

اگرچہ پولنگ کا آغاز بیشتر جگہوں پر صبح ساڑھے سات بجے ہی ہو گیا تھا لیکن متعدد حلقوں سے بیلٹ پیپر نہ پہنچنے، بیلٹ پیپر کی غلط چھپائی اور پولنگ عملے کی غفلت کی شکایات بھی ٹی وی چینلوں کی خبروں کا مرکز بنتی رہیں۔ جمعرات کے روز سارا دن مختلف علاقوں سے ہنگامہ آرائی، تصادم، ہوائی فائرنگ، لاٹھی چارج اور انتخابی بے ضابطگیوں کی اطلاعات بھی ملتی رہیں۔ مختلف علاقوں میں ہونے والے تصادم کے واقعات کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی اور گرفتار بھی ہوئے۔ کئی جگہوں پر کشیدہ صورتحال کی وجہ سے پولنگ بھی روکنا پڑی لیکن اس سب کے باوجود انتخابی عمل میں عوام کی شرکت جوش و خروش سے جاری رہی۔ بہت سے معذور، عمر رسیدہ اور بیمار لوگوں کے علاوہ ایک دولہا نے بھی انتخابی عمل میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ کبیر والا کے ایک علاقے میں خواتین نے ساٹھ سال بعد پہلی مرتبہ اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری بابر یعقوب فتح محمد نے جمعرات کی سہ پہر بتایا کہ الیکشن میں بڑے پیمانے پر ہونے والی بے ضابطگیوں کے حوالے سے کوئی سنجیدہ شکایات ابھی تک موصول نہیں ہوئی ہیں۔

گوجرانوالہ کی تحصیل نوشہرہ ورکاں کی یونین کونسل 77 پر ڈیوٹی دینے والے اسسٹنٹ پریذائیڈنگ آفیسر عرفان ندیم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس دُور افتادہ علاقے میں لوگوں کی بڑی تعداد نے بڑے جوش و خروش سے انتخابی عمل میں حصہ لیا:’’اس مرتبہ ٹرن آوٹ بہت بہتر تھا۔‘‘

اس علاقے میں موجود ووٹروں نے یہ دلچسپ بات بتائی کہ بالٹی کے نشان والے ایک امیدوار نے بعض ووٹروں کو جلیبیوں اور مٹھائیوں سے بھری بالٹیاں فراہم کیں۔ کئی دیگر مقامات پر تعینات پولنگ کے عملے نے ٹرانسپورٹ کے نہ ہونے، دور دراز کے علاقوں میں ان کے تعینات کیے جانے اور مناسب تربیت نہ فراہم کیے جانے کا بھی گلہ کیا۔ کئی علاقوں میں پریذائیڈنگ آفیسرز کو تبدیل بھی کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر سرگودھا کی ایک خاتون کی ویڈیو لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جس میں اس خاتون کو ایک ہی مرتبہ سات ووٹ ڈالتے ہوئے دکھایا گیا۔ انتخابی دھاندلیوں کے بعض واقعات بدین، گوجرانوالہ اور کئی دیگر علاقوں سے بھی رپورٹ ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں مقامی حکومتوں کے نظام کے ایک ماہر نصیر میمن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اگرچہ ان انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی مقامی حکومتوں کے پاس بہت کم اختیارات ہوں گے جو کہ بنیادی میونسپل سروسز تک محدود ہوں گے۔ ان کے نزدیک ’ایک ایسے ملک میں، جہاں ترقیاتی سرگرمیاں اکثر مفقود دکھائی دیتی ہوں، وہاں عام لوگوں کے لیے یہ موقع ملنا بھی غنیمت ہے‘۔

کیا یہ انتخابات پاکستان کو نئی سیاسی قیادت فراہم کر سکیں گے؟ اس سوال کے جواب میں نصیر میمن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اشرافیہ کی جمہوریت نے ہمیشہ موروثی سیاست کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے:’’ان انتخابات میں بھی ارکانِ پارلیمنٹ اور روایتی سیاسی گھرانوں کے عزیز و اقارب نمایاں طور پر شریک ہو رہے ہیں۔‘‘ تاہم ان کے بقول قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے مقابلے میں اگر دیکھا جائے تو ان انتخابات میں پھر بھی کچھ نہ کچھ عام لوگ جمہوری نظام کا حصہ بننے میں کامیاب ہو ہی جاتے ہیں۔