1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بلاگ واچ: پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت اور بون کانفرنس کا بائیکاٹ

پاکستانی حکومت کے جرمن شہر بون کے نواح میں دسمبر کے اوائل میں ہونے والی بین الاقوامی افغانستان کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کو کئی پاکستانی بلاگرز نے اپنی تحریروں کا موضوع بنایا ہے۔

default

اسلام آباد حکومت نے کابینہ کی سطح پر متفقہ طور  پر یہ فیصلہ پاک افغان سرحد کے قریب نیٹو کے ایک فضائی حملے میں 26 نومبر کو پاکستانی فوج کے 24 سپاہیوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی طور پر کیا ہے۔

Pakistanibloggers.net کے مطابق ’جیو تو ایسے‘ نامی ویب سائٹ پر ظہیر الحسن نامی ایک پاکستانی بلاگر نے بدھ کے روز اپنے بلاگ ’جیو تو ایسے پاکستان‘ میں لکھا کہ وفاقی کابینہ نے لاہور میں اپنے ایک اجلاس میں جرمن شہر بون کے نواح میں پیٹرز برگ کے مقام پر پانچ دسمبر کو ہونے والی افغانستان کانفرنس کے بائیکاٹ کا فیصلہ نیٹو کے حالیہ حملے کے خلاف بطور احتجاج کیا ہے۔

Pakistan Demonstration in Multan gegen die ISI Kritik aus den USA

پاکستان میں امریکہ مخالف احتجاج، فائل فوٹو

اس بلاگر نے لکھا، ’’نیٹو کی اس جارحیت نے افغانستان سے امریکی فوجی دستوں کے تیز رفتار اور پر امن انخلاء کو نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم پاکستانی قوم ملکی مسلح افواج کی پشت پر ہے اور نیٹو یا ISAF دستوں کی طرف سے کسی بھی حملے یا پاکستان کی ریاستی خود مختاری کی خلاف ورزی کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔‘‘

لندن ریویو آف بکس نامی ویب سائٹ نے اپنے بلاگ پیج پر معروف پاکستانی صحافی اور مصنف طارق علی  کا ایک بلاگ شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے، نیٹو نے پاکستان پر حملہ کیوں کیا؟ اپنے اس بلاگ میں طارق علی نے لکھا ہے کہ نیٹو کمانڈروں کو کافی عرصے سے ایسے نقشے مہیا کیے جاتے رہے ہیں جن میں پاکستانی فوج کی چوکیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اس پاکستانی نژاد برطانوی بلاگر کے مطابق نیٹو نے یہ ’فضائی حملہ لازمی طور پر دانستہ کیا کیونکہ انہیں علم تھا کہ جس ٹارگٹ پر وہ حملہ کر رہے ہیں، وہ ایک فوجی چوکی ہے‘۔

ایک اور پاکستانی ویب سائٹ Blogegrs.pk پر، جہاں پاکستانی اور پاکستان کے بارے میں بلاگز کو ایک نیٹ ورک کی صورت میں یکجا کر دیا جاتا ہے، بھارت کے شہر بھوپال سے افتخار اجمل نامی ایک بلاگر نے بدھ کے روز اپنے بلاگ کو یہ عنوان دیا: امریکہ اور پاکستان، مہلک ترین دوست۔

Nach der Schließung zweier Grenzübergänge zwischen Pakistan und Afghanistan

اپنے بلاگ میں افتخار اجمل لکھتے ہیں کہ نیٹو حملے کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقے میں 26 نومبر کو ’پاکستانی فوج کے 24 سپاہیوں کی ہلاکت ہو سکتا ہے کہ افغانستان کی جنگ میں امریکہ کی مہنگی ترین غلطی ثابت ہو‘۔

اسی طرح 'پاکستانی اسپیکٹیٹر‘ نامی بلاگ میں عمر طور نامی بلاگر نے بدھ کے روز ملکی سیاست پر اظہار خیال کرتے ہوئے اپنی تحریر کو عنوان دیا: زرداری نیٹو کے خلاف مزاحمت کی دیوار بن کر ابھرے ہیں۔

اپنے بلاگ میں عمر طور لکھتے ہیں: ’منظر بہت منفرد اور بے مثال ہے۔ نیٹو، ایساف اور امریکی فوجی دستے معافی کے لیے در‌خواستیں کر رہے ہیں اور معذرت چاہتے ہوئے بار بار افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔ لیکن پاکستانی مسلح افواج کے ثابت قدم کمانڈر ان چیف اپنے مؤقف سے ذرا سا بھی نہیں ہل رہے۔‘

یہ بلاگز آپ پوری تفصیل سے نیچے دیے گئے آن لائن لنکس کے ذریعے پڑھ سکتے ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

ویب لنکس