1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

بلاٹر کی نوے دن کی معطلّی ’’حیاتو کی چاندی‘‘

عیسٰی حیاتو کو فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کا عبوری صدر بنا دیا گیا ہے۔ فیفا کے مطابق جوزیف بلاٹر کو بطور صدر ان کی ذمہ داریوں سے فارغ کر دیا گیا اور ان کی غیر حاضری میں اس ادارے کی سربراہی حیاتو کے پاس ہو گی۔

69 سالہ عیسیٰ حیاتو کنفیڈریشن آف افریقن فٹ بال ’سی اے ایف‘ کے صدر ہیں اور ماضی میں مشکلات کا شکار رہنے کے باوجود وہ فیفا کے نائب سربراہ بھی تھے۔ فیفا کے بیان میں مزید بتایا گیا کہ نوے دن کی معطّلی کے دوران بلاٹر کسی بھی سطح پر فیفا کی نمائندگی نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی انہیں فیفا کے حوالے سے ذرائع ابلاغ سمیت اس تنظیم سے منسلک کسی بھی ادارے سے بات کرنے کی اجازت ہوگی۔

سوئس حکام کی جانب سے بدعنوانی میں ملوث ہونے کے شبے میں بلاٹر سے پوچھ گچھ شروع کی گئی ہے اور جس کے فوری رد عمل میں فیفا کی ضابطہ اخلاق کی کمیٹی نے انہیں نوے دن کے لیے معطّل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Joseph Blatter und Issa Hayatou

بدعنوانی کے حالیہ واقعات سے قبل تک حیاتو اور بلاٹر انتہائی قریب تھے

حیاتو کا تعلق کیمرون سے ہے اور وہ فیفا کی اہم ترین مالی کمیٹی سے بھی منسلک رہ چکے ہیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ سیپ بلاٹر کے حریف کے طور پر اس تنظیم کی صدارت کے لیے ہونے والے انتخابات میں حصہ بھی لیا تھا۔ تاہم بدعنوانی کے حالیہ واقعات سے قبل تک وہ اور بلاٹر انتہائی قریب تھے۔

عیسیٰ حیاتو 1988ء سے ’سی اے ایف‘ کے سربراہ ہیں اور وہ 1990ء میں فیفا کی ایگزیکیٹو کمیٹی کے رکن بنے تھے۔ 2010ء میں جنوبی افریقہ میں فٹ بال کے عالمی کپ کے انعقاد میں بھی حیاتو نے انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ براعظم افریقہ میں منعقد ہونے والا پہلا عالمی کپ تھا۔ تاہم ان پر بھی الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔ اولمپکس کی بین الاقوامی تنظیم نے 2011ء میں کھیلوں سے متعلق ایک مارکیٹنگ کمپنی’آئی ایس ایل‘ سے غیر قانونی رقم لینے کے الزام میں ان پر شدید تنقید کی تھی۔ حیاتو نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا تھا، ’’بین الاقوامی کھیلوں کے تمام معاہدوں کے حوالوں سے میرا ضمیر بالکل شفاف ہے‘‘۔