1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

بلاٹر پھر بنے فیفا کے صدر، بھاری ووٹوں سے کامیابی

سیپ بلاٹر کو ایک بار پھر فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر کو طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ بلاٹر 2015 تک عہدے پر فائز رہیں گے۔ انتخابات میں بلاٹر کو 203 میں سے 186 ووٹ حاصل ہوئے۔

default

سیپ بلاٹر کا صدر کے عہدے کے لیے منتخب کیا جانا انتخابات سے پہلے ہی طے تھا ، کیونکہ وہ اس الیکشن میں اکیلے ہی امیدوار تھے۔ ان کے مخالف محمد بن حمام نے بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے صدارتی دوڑ سے اپنا نام واپس لے لیا تھا۔ بدعنوانی کے الزام بلاٹر پر بھی لگتے آئے ہیں۔

قبل ازیں کرپشن کے الزامات سامنے آنے کی وجہ سے برطانوی فٹبال ایسوسی ایشن نے انتخابات کو ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔

انتخابات ملتوی کرنے کی تجویز کو فیفا اراکین نے مسترد کر دیا تھا۔ انتخابات ملتوی کرنےکی تجویز کے حق میں سے صرف 17 ووٹ ڈالے گئے جبکہ اس کے حق میں 172 ووٹ پڑے۔

انتخابات جیتنے کے بعد بلاٹر نے کہا، ’’میں اب ایسوسی ایشن کا صدر ہوں اور جن لوگوں نے میرے لیے ووٹ نہیں ڈالے ، میرے دل میں ان کے لیے کوئی ناراضگی نہیں ہے۔‘‘

NO FLASH FIFA Präsident Blatter wiedergewählt

بلاٹر 1998 سے فیفا کے صدر منتخب ہوتے آئے ہیں

ان کا مزید کہنا تھا، ’’ہمیں فیفا کے اس جہاز کو صاف پانی میں اتارنا ہے اور اس بار اسے صحیح سمت دینی ہے۔ اس میں ہمیں تھوڑا وقت ضرور لگے گا لیکن ہم ایسا کر کے رہیں گے۔ ہماری عمارت بہت مضبوط ہے کیونکہ ہم نے اس کی بنیاد مضبوط رکھی ہے۔‘‘

بلاٹر کا کہنا تھا کہ وہ ادارے میں اصلاحات کرائیں گے، جن میں فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے کسی بھی ملک کو منتخب کرنے کا طریقہ کار بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ سے ورلڈ کپ کی میزبانی کا انتخاب فیفا کے تمام رکن مل کر کریں گے۔ ابھی تک صرف 24 ارکان کی ایگزیکٹیو کمیٹی یہ فیصلہ لیتی آئی ہے۔

بلاٹر نے کہا ، ’’مستقبل میں ورلڈ کپ کے انعقاد کا فیصلہ فیفا کانگریس کرے گی۔ ایگزیکٹیو کمیٹی صرف ایک فہرست تیار کرے گی۔ یہ صرف ایک لسٹ ہوگی، اس میں کسی کی سفارش نہیں ہوگی اور کانگریس ہی یہ طے کرے گی کہ ورلڈ کپ کہاں ہونا ہے۔‘‘

بلاٹر 1998 سے فیفا کے صدر منتخب ہوتے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ 2015 میں ہونے والے انتخابات میں وہ دوبارہ حصہ نہیں لیں گے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: شامل شمس

DW.COM