1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بلاول پور کا گاؤں: پانی کے بیچ میں

پاکستان میں آنے والے حالیہ سیلاب میں بیس ملین افراد متاثر، پانچ ملین لوگ بے گھر اورتقریبا بیس فیصد سے زائد زمین زیر ِ اب ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں نہ صرف بدترین تباہ ہوئی ہے بلکہ کاشتکاروں کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔

default

بلاول پور کا ارد گرد کے علاقوں سے رابطہ منقطع

دریائے سندھ سے دس کلومیٹر دور واقع بلاول پور نامی گاؤں معجزاتی طور پر زیر ِآب آنے سے تو بچ گیا مگر چاروں طرف پانچ پانچ فٹ پانی ہونے کی وجہ سے اس کا ارد گرد کے علاقوں سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

فوجی جوان ، جنرل شوکت اقبال کی قیادت میں بلاول پور کے لوگوں کے پاس امداد لےکر پہنچے تو وہاں کے مکینوں کا بھوک اور پیاس سے برا حال تھا، مگرجب جرنل شوکت نے پانی میں پھنسے لوگوں سے کہا کہ فوج ان کو وہاں سے نکال کر لے جانے کے لئے آئی ہے اور کیا وہ لوگ ان کے ساتھ چلیں گے تو سبھی دیہاتیوں نے یک زبان ہوکر اپنا گاؤں چھوڑ نے سے انکار کردیا۔

Flash-Galerie Pakistan Überschwemmung

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کا بھوک اور پیاس سے بُرا حال

حکام نے علاقے کو خالی کرانے کے لئے پولیس، فوج ، اور قبائلی رہنماؤں کو بھی بیجا کیونکہ اگر پانی دو سے تین فٹ اور بڑھ جاتا تو بلاول پور بھی باقی علاقوں کی طرح پانی میں بہے جاتا۔ مگر ڈسٹرکٹ اہلکار سید عطااللہ شاہ کا کہنا ہے کہ پچیس سو لوگوں میں سے صرف ایک ہزار نے علاقہ چھوڑنے پر رضامند ظاہر کی۔

جن لوگوں نے نقل مکانی کرنے سے انکار کر دیا تھا وہ خراب موسم کا سامنا کرتے کرتے نڈھال ہوگئے ہیں، وہ سارا سارا دن گرم اور نم زدہ موسم کے دوران دن ڈھلنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں تاکہ جو کچھ کھانے کہیں سے ملے اس سے افطار کر سکیں، ان سب حالات اور مشکلات کے باوجود وہ اپنے علاقے اور گھروں کو چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔بلاول پور کے مکین محمد جمّن کا کہنا ہے کہ امدادی کیمپوں میں نہ کھانا ہے اور نہ ہی وہاں موجود حکام لوگوں کے ساتھ اچھی طرح سے پیش آتے ہیں۔

سترہ ملین کی آبادی رکھنے والے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی جانے کا تصور ہی ان لوگوں کے لئےمحال ہے۔حاجی غلام کا کہنا ہے کہ 'شہر گندے اور مہنگے ہوتے ہیں اور ہم وہاں باوقار زندگی نہیں گزار سکتے۔

Pakistan Flash-Galerie

پاکستان میں سیلاب کے دوران افواج امدادی کاموں میں مصروف

فوج نے کسی کو بھی علاقہ چھوڑنے کے لئےمجبور نہیں کیا ، گاؤں کے ارد گرد پانی کی سطح میں تھوڑی کمی آتی جارہی ہے اور اگر موسم خشک رہا تو گاؤں کے ڈوبنے کا خطرہ تو ٹل جائے گا مگر بلاول پور کے لوگوں کو ابھی اور مشکلات کا سامنا ہے، سیلاب کی بےرحم لہریں ان کی کاشت کی ہوئی کپاس کو بھی ساتھ بہا کر لے گئں۔چاروں طرف کے پانی کو خشک ہونے میں کم از کم ایک مہینہ لگ جائے گا اور تب نئی فصل کی کاشت کے لئے بہت دیر ہوجائے گی۔

بلاول پور سے نکلتے ہوئے عموما پراُمید اور رجاَئیت پسندانہ فوجی ترجمان کرنل اسد احمد جلالی بھی حالات کی سنگینی پر کافی نااُمید اور مایوس نظر آئے ، ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں ان لوگوں کی بھوک اور پیاس میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

رپورٹ: سمن جعفری

ادارت‌: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس