1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بغداد کے ’گرین زون‘ میں ہنگامہ آرائی، متعدد ہلاکتیں

بغداد کے محفوظ ترین سمجھے جانے والے علاقے ’گرین زون‘ میں ایک بار پھر پر تشدد کارروائیاں ہوئی ہیں، جن کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ عراقی حکومت کے خلاف عوامی دباؤ میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

عراقی دارالحکومت بغداد سے آج ہفتے کے روز موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہر کا ’گرین زون‘ جمعے کے روز ایک مرتبہ پھر اس وقت میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا جب حکومت مخالف مظاہرین نے پارلیمنٹ اور سرکاری عمارتوں کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی اور جواب میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر آنسو گیس اور ربر سے بنی گولیوں کا استعمال کیا۔

بغداد کا ’گرین زون‘ دارالحکومت کا محفوظ ترین علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں حکومتی دفاتر کے علاوہ غیر ملکی سفارت خانوں کی عمارتیں بھی قائم ہیں۔ تاہم ایک ماہ سے کم کے عرصے میں یہ دوسری بار ہوا ہے کہ اس علاقے کی سکیورٹی مظاہرین کے قدموں تلے ڈھیر ہوئی ہے۔

ہفتے کے روز ہونے والے پر تشدد واقعات میں اب تک کم از کم چار افراد کے ہلاک اور درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مظاہرین شیعہ رہنما مقتدہ الصدر کے حامی ہیں۔ مقتدہ الصدر کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ ملک میں بد عنوانی کے خاتمے کے لیے کارروائی کرے، کابینہ کی تشکیل نو اور حکومتی اداروں میں اصلاحات کا عمل شروع کرے۔ الصدر کے حامیوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم حیدر العبادی شدت پسند سنی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘، جسے داعش بھی کہا جاتا ہے، کی بم باری سے عراقی عوام کو نجات دلائیں۔

حکومت نے جمعے کے روز بغداد میں قلیل مدت کے لیے کرفیو نافذ کردیا تھا، تاہم بعد ازاں سکیورٹی کے انتظامات کو معمول کے مطابق کر دیا گیا تھا۔

رات گئے وزیر اعظم حیدر العبادی نے ایک تقریر میں ’گرین زون‘ میں پر تشدد واقعات کی مذمت کی اور کہا کہ قانون توڑنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

الصدر نے ’پر امن مظاہرین‘ پر حکومتی ’تشدد‘ پر تنقید کی اور کہا کہ سکیورٹی فورسز نے بچوں تک کو نہیں چھوڑا۔

چند ہفتوں قبل امریکی وزیر خارجہ جان کیری بغداد پہنچے تھے، جہاں انہوں نے حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ امریکا کی کوشش ہے کہ عراق کے سیاسی بحران پر قابو پایا جا سکے تاکہ حکومت کی تمام تر توانائی داعش کے خلاف جنگ میں یک سوئی کے ساتھ صرف ہو سکیں۔

DW.COM